کراچی: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے کراچی سٹی کونسل کے 32 اراکین سے باضابطہ طور پر لاتعلقی اختیار کر لی ہے، یہ کہہ کر کہ اب ان افراد کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب کراچی کی تنظیم کے اندر پارٹی نظم و ضبط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر کشیدگی بڑھ رہی تھی۔
تفصیلات کے مطابق، پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان 32 اراکین کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی ہے — یہ وہ اراکین ہیں جو پی ٹی آئی کی حمایت سے منتخب ہوئے تھے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد کا اب پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور عوام یا متعلقہ ادارے انہیں پارٹی کا نمائندہ نہ سمجھیں۔ مزید یہ کہ آئندہ انہیں سٹی کونسل کے آزاد اراکین کے طور پر تصور کیا جائے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ ان اراکین کی جانب سے بار بار پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی اور تنظیمی نظم و ضبط کی پامالی کے باعث کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اس کی ساکھ اور اتحاد کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کو مقامی حکومت کی سطح پر کراچی میں اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، اور پارٹی اپنی تنظیمی صفوں میں وفاداری اور نظم و ضبط کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔