استنبول | 24 جولائی 2025
کئی مہینوں کی خاموشی کے بعد، روس اور یوکرین کے اعلیٰ سطحی وفود نے بدھ کے روز استنبول میں ایک بار پھر براہِ راست ملاقات کی، تاکہ اُس جنگ کو ختم کرنے کی راہ نکالی جا سکے جو اب ساڑھے تین سال سے جاری ہے۔ بظاہر مذاکراتی عمل میں نئی جان دکھائی دی، مگر دونوں جانب امیدیں ابھی بھی نہایت محدود ہیں۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فدان نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
"ہماری خواہش ہے کہ یہ خونریز جنگ، جو بے حد نقصان دہ ثابت ہو چکی ہے، جلد از جلد ختم ہو۔”
"ہمارا حتمی مقصد جنگ بندی ہے، جو امن کی جانب پہلا قدم بنے۔”
امریکہ کا الٹی میٹم، کریملن کا سرد ردِعمل
یہ بات چیت ایک نہایت حساس موقع پر ہو رہی ہے۔ صرف چند دن پہلے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو 50 دن کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر جنگ ختم نہ کی گئی تو سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مگر روس کی جانب سے کسی بھی قسم کی نرمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے مذاکرات کے نتائج کے بارے میں زیادہ پرامیدی کا اظہار نہیں کیا:
"کسی کو بھی آسان راستے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ بہت مشکل ہو گا،” انہوں نے صحافیوں کو بتایا۔
گزشتہ مذاکرات: قیدیوں کی رہائی تک محدود
مئی اور جون میں استنبول میں ہونے والے گزشتہ دو ادوار میں قیدیوں اور ہلاک فوجیوں کی لاشوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن اس سے آگے کوئی بڑی سیاسی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بات چیت ایک ممکنہ ملاقات کی بنیاد بن سکتی ہے، جس میں صدر وولودیمیر زیلنسکی اور صدر ولادیمیر پیوٹن بالمشافہ گفتگو کریں، لیکن یہ امکان فی الحال کافی دور نظر آتا ہے۔
ایک یوکرینی نمائندے نے اے ایف پی کو بتایا:
"یہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ آیا روس اپنا ہٹ دھرمی والا رویہ ترک کرتا ہے اور کوئی تعمیری موقف اپناتا ہے یا نہیں۔”
روس کی جانب سے تاحال واضح کیا گیا ہے کہ صدور کے درمیان براہِ راست ملاقات کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں رہنما آخری بار 2019 میں ملے تھے — جب جنگ کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا۔
تنازع کی جڑ: علاقائی قبضے پر ضد
دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع زمینوں پر قبضے سے جڑا ہوا ہے۔
روس کا اصرار ہے کہ یوکرین اُن چار علاقوں سے دستبردار ہو جنہیں ماسکو نے ستمبر 2022 میں غیرقانونی طور پر ضم کر لیا تھا۔ یوکرین اس شرط کو مکمل طور پر مسترد کر چکا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی علاقے پر بات چیت صرف جنگ بندی کے بعد ہو سکتی ہے، اور کریمیا سمیت کسی بھی روسی قبضے کو وہ کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
یوکرینی وفد کی قیادت سابق وزیر دفاع رستم عمرُوف کر رہے ہیں، جو اس وقت یوکرین کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ دوسری جانب روسی وفد کی قیادت ولادیمیر میڈنسکی کے پاس ہے، جو ایک سیاسی ماہر اور سابق مذاکراتی نمائندے ہیں، مگر خود روسی حلقوں میں بھی انہیں ایک طاقتور فیصلہ ساز نہیں سمجھا جاتا۔ یوکرینی اہلکار انہیں "کریملن کا کٹھ پتلی” کہہ چکے ہیں۔
تھکن، تباہی اور انسانی المیہ
فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد سے مشرقی اور جنوبی یوکرین کے کئی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فوجی نقصانات بھی شدید ہیں — اور آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے۔
جون میں ہونے والے آخری مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کیا تھا، مگر کریملن کے بقول، وہ "ایک دوسرے کی مکمل ضد” تھیں۔
کیا استنبول کسی پیش رفت کا آغاز بنے گا؟
اب جب کہ عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انسانی قیمت ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا استنبول ان برفیلے تعلقات کو پگھلا سکتا ہے؟
یا یہ مذاکرات بھی صرف رسمی کارروائی بن کر رہ جائیں گے — جہاں دونوں فریق بات تو کرتے ہیں، مگر سنتے نہیں۔ فی الحال، دنیا صرف دیکھ رہی ہے — اور انتظار کر رہی ہے