آئی ایم ایف کا پاکستان سے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے پر ٹھوس اور وقت-bound منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد | 24 جولائی 2025

پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے نے ملک کی مالی حالت کو سخت دباؤ میں ڈال رکھا ہے، اور اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک واضح، مرحلہ وار اور حقیقت پسندانہ منصوبہ پیش کرے۔

گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 2800 ارب روپے تک جا پہنچا

سرکاری ذرائع کے مطابق، صرف گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 2800 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے — جس سے سوئی گیس کمپنیوں اور دیگر سرکاری آئل و گیس اداروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔

ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "آئی ایم ایف اب مبہم وعدوں سے مطمئن نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ حکومت واضح اعداد و شمار، مکمل ٹائم لائن، اور بنیادی اصلاحات کے ساتھ ایک باقاعدہ منصوبہ سامنے لائے۔”

حکومت کا کثیر الجہتی حکمتِ عملی پر غور

حکومت کی جانب سے قرضے پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے، جس کا ایک اہم جزو یہ ہے کہ مقامی بینکوں سے 2000 ارب روپے کا قرض حاصل کیا جائے — کوشش یہ ہے کہ یہ قرض نرمی پر مبنی شرائط کے تحت حاصل کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت کی مالیاتی اداروں سے بات چیت جاری ہے تاکہ یا تو سود کی شرح کو کم کیا جائے یا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، تاکہ قرض کی واپسی کا بوجھ کم ہو۔

عوام پر مالی بوجھ بڑھنے کا امکان

حکومت نے قرض کی واپسی کے لیے نئی ریونیو اسکیموں پر بھی غور شروع کر دیا ہے، جن میں سے ایک قابلِ غور تجویز یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 3 سے 10 روپے تک لیوی عائد کی جائے، جس سے تقریباً 180 ارب روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ساتھ ہی، گیس کے بلوں پر اضافی سرچارج لگانے کی بھی تجویز زیرِ غور ہے — جو براہ راست عوام کو متاثر کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مہنگائی اور بلند یوٹیلیٹی بلز سے نبرد آزما ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات کیے گئے تو انہیں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی بھی دی جائے گی۔

پانچ سالہ واپسی منصوبہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بینک قرض کی منظوری ہو جاتی ہے، تو اسے پانچ سال میں واپس کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گیس کمپنیوں کے انتظامی اور تکنیکی نقصانات کو کم نہیں کیا جاتا، اس قسم کی مالی بندوبست صرف وقتی ریلیف ثابت ہو گی۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک توانائی امور کے ماہر نے خبردار کرتے ہوئے کہا،

"یہ صرف پیسہ جمع کرنے کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظام میں موجود ‘لیک’ کو بند کرنے کا وقت ہے۔ جب تک آپ کمپنیوں کے نقصانات نہیں روکیں گے، آپ ایک ٹوٹی ہوئی بالٹی میں پانی ڈالتے رہیں گے۔”

آئی ایم ایف کی کڑی نظر

آئی ایم ایف، جو اس وقت پاکستان کے ساتھ ایک طویل المدتی بیل آؤٹ پیکیج پر بات چیت کر رہا ہے، گردشی قرضے کو ملکی مالی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہا ہے۔ فنڈ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر پاکستان کو مستقبل میں مالی امداد درکار ہے تو اس مسئلے کا مستقل حل ضروری ہے۔

آگے کا راستہ

ایسے وقت میں جب عوامی توقعات، معیشتی حقیقتیں، اور بین الاقوامی تقاضے ایک ساتھ موجود ہیں، حکومت ایک مشکل امتحان میں ہے — اسے ایسے فیصلے کرنے ہیں جو بیک وقت قابلِ عمل بھی ہوں اور سیاسی طور پر قابلِ قبول بھی۔

اب سب کی نظریں اسلام آباد پر ہیں — کیا حکومت ایک ایسا جامع، جرأت مندانہ لیکن قابلِ عمل منصوبہ دے سکے گی جو آئی ایم ایف کو مطمئن بھی کرے اور ملک کے لیے بہتری کا راستہ بھی کھولے؟

More From Author

وزیراعظم شہباز شریف کی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش، برطانیہ کے کردار کی ستائش

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ، محصولات میں نمایاں کمی پر اتفاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے