امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ اپنی پہلی براہِ راست ملاقات کو "مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جلد ایک اعلیٰ سطحی ملاقات ہو سکتی ہے — ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
روبیو جو اس سال اپنے منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار ایشیائی دورے پر ہیں، نے یہ ملاقات ملائیشیا میں ہونے والے ایسٹ ایشیا سمٹ اور آسیان ریجنل فورم کے موقع پر کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ نے حال ہی میں ایشیا کے متعدد ممالک پر بھاری درآمدی محصولات عائد کیے، جس سے نہ صرف خطے کے اتحادی ممالک پریشان ہیں بلکہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں مزید تناؤ آ گیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے آسیان وزرائے خارجہ سے بات چیت میں امریکی محصولات کو "یکطرفہ غنڈہ گردی کی واضح مثال” قرار دیا۔ ساتھ ہی بیجنگ نے ایسے ممالک کو جو چین کو عالمی سپلائی چین سے نکالنے میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں، جوابی اقدامات کی دھمکی بھی دی ہے۔
اس تمام تناؤ کے باوجود، دونوں فریقین نے جمعے کو ہونے والی ملاقات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم دونوں بڑی طاقتیں ہیں، اور ہمارے درمیان اختلافات بھی ہیں، لیکن تعاون کی گنجائش بھی موجود ہے۔ یہ کوئی مذاکراتی نشست نہیں تھی بلکہ آئندہ بات چیت کے لیے ایک تعمیری بنیاد رکھنے کا موقع تھا۔”
روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان ملاقات کے امکانات "خاصے روشن” ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ کو چین کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے، اور دونوں رہنما اس ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملاقات صرف رسمی نوعیت کی نہ ہو، بلکہ اس سے کچھ ٹھوس نتائج بھی حاصل ہوں۔
"ہمیں ایسی فضا تیار کرنی ہے جہاں صرف ملاقات نہ ہو، بلکہ کوئی قابلِ ذکر پیش رفت بھی ہو،” روبیو نے کہا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، وانگ ای نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اپنے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے نکات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے۔ "دونوں فریقین نے ملاقات کو مثبت، حقیقت پسندانہ اور تعمیری قرار دیا،” چینی بیان میں کہا گیا۔
روبیو کا ایشیائی دورہ دراصل واشنگٹن کی انڈو پیسیفک خطے پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی خارجہ پالیسی زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات میں الجھی رہی ہے۔ تاہم، روبیو کی سفارتی کوششوں پر اس ہفتے کے نئے محصولات کے اعلان نے سایہ ڈال دیا ہے۔
ان محصولات میں جاپان، جنوبی کوریا، اور ملائیشیا پر 25 فیصد، انڈونیشیا پر 32 فیصد، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر 36 فیصد، اور میانمار و لاؤس پر 40 فیصد تک کے اضافے شامل ہیں — جس نے کئی علاقائی رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے باوجود روبیو پر امید نظر آئے۔ "آنے والا راستہ آسان نہیں ہوگا، لیکن ہم بات کر رہے ہیں — اور خاموشی سے بہتر ہے کہ بات چیت ہو،” انہوں نے کہا