آسٹریلیا نے ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا، یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام

کینبرا: آسٹریلیا نے ایران کے سفیر اور تین دیگر سفارتی اہلکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ تہران آسٹریلیا میں ہونے والے دو یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان اہلکاروں کو سات دن کے اندر ملک چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے۔

وزیراعظم البانیز نے صحافیوں کو بتایا کہ تہران میں آسٹریلیا کے سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ پارلیمان میں ایک بل پیش کیا جائے گا جس کے تحت ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی بھی امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا اور امریکہ کے ساتھ تنازعہ "ناقابلِ حل” ہے۔

“امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے، لیکن ایرانی قوم پوری قوت کے ساتھ اس جھوٹی توقع کے خلاف ڈٹی رہے گی،” خامنہ ای نے سرکاری میڈیا کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا۔ انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حامیوں کو "احمق” قرار دیا اور الزام لگایا کہ غیر ملکی دشمن ایران میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بیان ایک ہنگامہ خیز موسمِ گرما کے بعد سامنے آیا ہے۔ رواں سال جون میں ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات معطل کر دیے تھے، جب امریکہ اور اسرائیل نے 12 روزہ جنگ کے دوران اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تاہم گزشتہ ہفتے ایران اور یورپی طاقتوں نے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کیا، جس سے محتاط امیدیں پیدا ہوئی ہیں کہ سفارتی عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے

More From Author

حزب اللہ کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، اسرائیلی جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ

 فیصل آباد میں نیا بین الاقوامی ایئرپورٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے