اسلام آباد:
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافے کے لیے 200,000 روپے سے زائد کی نقد کاروباری لین دین پر 20.5 فیصد کا بھاری اضافی ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ یکم جولائی سے لاگو ہونے والے اس اقدام نے کاروباری برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ نیا قانون حال ہی میں منظور شدہ فنانس ایکٹ 2025 کا حصہ ہے اور مالی سال 2025-26 کے آغاز کے ساتھ نافذ ہو چکا ہے۔ اس کا بنیادی ہدف نان فائلرز ہیں، اور اس کا مقصد وہ تمام نقد کاروباری لین دین روکنا ہے جو دستاویزی معیشت کا حصہ نہیں بنتے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 21 کے تحت کی گئی ترمیم کے مطابق، اب کاروباری ادارے 200,000 روپے سے زائد کی نقد فروخت پر اپنی اخراجات کی صرف 50 فیصد حد تک کٹوتی کا دعویٰ کر سکیں گے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ہر نقد فروخت پر 20.5 فیصد کا ٹیکس لاگو ہوگا، جو کاروبار کے لیے قابل قبول لاگت کو محدود کر دے گا اور ان پر اضافی ٹیکس بوجھ ڈالے گا۔
کاروباری حلقوں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) نے اس اچانک فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کئی کمپنیوں نے اپنے صارفین کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن میں باضابطہ بینکاری ذرائع سے ادائیگی پر زور دیا گیا ہے تاکہ وہ اضافی ٹیکس سے بچ سکیں۔
میٹس گلوبل کے مطابق، اگر کوئی کاروبار 200,000 روپے سے زائد کی نقد فروخت کرتا ہے تو ایف بی آر اس میں سے 41,000 روپے اضافی ٹیکس کی مد میں وصول کرے گا، جس کے بعد اصل رقم میں صرف 159,000 روپے ہی کاروباری لاگت کے طور پر شمار ہوں گے۔
یہ شق تاہم سرمایہ کاری، تنخواہوں، جائیداد کی آمدن اور کاشتکاروں سے براہ راست خریدی گئی زرعی اجناس پر لاگو نہیں ہوتی۔ اس قانون کا ہدف صرف کاروبار سے کاروبار کی نقد لین دین ہے۔
یہ قانون اگرچہ بڑی نقد فروخت کو غیرقانونی قرار نہیں دیتا، لیکن اس میں واضح طور پر ایسی ٹرانزیکشنز کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کچھ کاروباری افراد ان قوانین سے بچنے کے لیے ایک بڑی لین دین کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے جعلی ریکارڈ رکھ سکتے ہیں، جو کہ غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ آڈٹ کے دوران سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، فنانس ایکٹ 2025-26 کے تحت ایسے تمام کاروباری اخراجات پر 10 فیصد کی کٹوتی بھی لاگو ہو گی جو نان این ٹی این ہولڈرز (غیر رجسٹرڈ افراد) کے ساتھ کیے گئے ہوں۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی ایک اور کوشش ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر پر محصولات کا ہدف پورا کرنے کے لیے زبردست دباؤ ہے، کیونکہ ادارہ گزشتہ مالی سال (2024-25) میں 1.008 ٹریلین روپے کی کمی کے ساتھ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اب حکومت سخت ٹیکس اصلاحات اور نگرانی پر انحصار کر رہی ہے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اصلاحات کا مقصد درست ہے، لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد، عوامی آگاہی اور ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال نہایت ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر، کاروبار غیر رسمی راستے اختیار کر سکتے ہیں، جس سے ٹیکس چوری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔