بون، جرمنی — دنیا بھر کے تقریباً 200 ممالک نے جمعرات کے روز اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے بنیادی بجٹ میں آئندہ دو سال کے لیے 10 فیصد اضافے پر اتفاق کر لیا — ایک ایسا فیصلہ جسے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ عالمی عزم کا ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ جرمن شہر بون میں جاری اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات کے دوران طے پایا، جہاں جاپان، سعودی عرب جیسے بڑے ممالک اور فجی جیسے چھوٹے جزیرہ ریاستوں نے یو این فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے لیے بجٹ میں اضافے کی حمایت کی۔
نئے بجٹ کے مطابق، ادارے کو 2026–2027 کی مدت کے لیے 81.5 ملین یورو دیے جائیں گے، جو کہ 2024–2025 کے لیے مختص 74 ملین یورو سے 10 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے کئی دیگر ادارے مالی مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر امریکہ کی طرف سے امداد میں کمی اور یورپ کے کچھ حصوں میں ماحولیاتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی وجہ سے۔ ان حالات میں UNFCCC کے بجٹ میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری اب بھی ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
ایک اقوامِ متحدہ کے اہلکار نے بون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
"یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ معاشی دباؤ اور سیاسی اختلافات کے باوجود، حکومتیں اب بھی اپنے ماحولیاتی وعدوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔”
معاہدے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ چین نے اپنی مالی شراکت میں اضافہ کیا ہے۔ اب چین UNFCCC کے کل بجٹ کا 20 فیصد ادا کرے گا، جو اس سے پہلے 15 فیصد تھا۔ یہ اضافہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کا عکس ہے، خاص طور پر چونکہ وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور سب سے زیادہ کاربن گیسیں خارج کرنے والا ملک ہے۔
واضح رہے کہ UNFCCC کا بنیادی بجٹ وہ لازمی فنڈ ہوتا ہے جو رکن ممالک اپنی اقتصادی حیثیت کے مطابق ادا کرتے ہیں، اس کے برعکس وہ امداد جو ترقی پذیر ممالک کو دی جاتی ہے، رضاکارانہ بنیاد پر ہوتی ہے۔
اگرچہ ماحولیاتی کارکنان اب بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ زیادہ پرعزم اور بڑے پیمانے پر مالی اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو ماحولیاتی تباہ کاریوں کی براہِ راست زد میں ہیں، لیکن بون میں ہونے والا یہ فیصلہ ایک اہم علامتی قدم سمجھا جا رہا ہے — خاص طور پر اگلے سال برازیل میں ہونے والے COP30 اجلاس سے پہلے۔