کراچی — شہر کی ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا کریما آباد انڈر پاس منصوبہ اب خود شہریوں کے لیے ایک نیا عذاب بن چکا ہے۔ 2023 میں ڈیڑھ ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب تین ارب ستر کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے، لیکن اس کی تکمیل تاحال ایک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔
یہ منصوبہ صرف 10 ماہ میں یعنی ستمبر 2024 تک مکمل ہونا تھا، مگر ہر گزرتے مہینے کے ساتھ اس کی ڈیڈ لائن تبدیل ہوتی رہی۔ پہلے تاریخ 30 ستمبر 2025 مقرر کی گئی، جو اب گزر چکی ہے، اور اب حکام نے ایک نئی تاریخ دسمبر 2025 بتائی ہے۔ تاہم شہری ان وعدوں پر اب یقین کرنے کو تیار نہیں۔
منصوبے میں غیر معمولی تاخیر نے شہریوں اور دکانداروں دونوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کھدائی اور تعمیراتی کام کے باعث سڑکیں تنگ اور بند پڑی ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے، اور مقامی کاروباری افراد شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ آمد و رفت میں رکاوٹ اور گاہکوں کی کمی نے ان کے کاروبار کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔
ایک بزرگ شہری نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
“یہ منصوبہ لوگوں کی آسانی کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس نے تو زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ اس علاقے سے گزرنا اب ایک عذاب بن چکا ہے، گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہتی ہیں اور لوگ پریشان ہیں۔”
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بدانتظامی کے پیچھے ناقص منصوبہ بندی اور سرکاری سستی ہے۔ ایک اور رہائشی نے بتایا،
“جب بھی ٹھیکیداروں سے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ فنڈز نہیں مل رہے۔ چار سال گزر گئے اور انڈر پاس ابھی تک مکمل نہیں ہوا — ایسا تو کسی ملک میں نہیں ہوتا۔”
جو منصوبہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔ گاڑیوں کو لمبے راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں اور رش کے اوقات میں اردگرد کے علاقوں میں بھی ٹریفک جام معمول بن گیا ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے میں شفافیت اور جوابدہی کے فقدان پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق جب تک فنڈز کی فراہمی اور نگرانی کا نظام مؤثر نہیں ہوگا، اس طرح کے منصوبے ترقی کے بجائے مالی بوجھ بنتے رہیں گے۔
فی الحال، کریما آباد انڈر پاس کراچی میں نامکمل وعدوں کی ایک علامت بن چکا ہے ایک ایسا ڈھانچہ جو ترقی نہیں، بلکہ شہر کی بدانتظامی اور ناکامی کی کہانی سناتا ہے۔