کراچی — شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جدید اے آئی ای چالان سسٹم کے سخت اقدامات کے دوران، خود ٹریفک پولیس اہلکاروں نے چالان سے بچنے کا ایک نیا اور "چالاک” طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں اسے ایک موٹر سائیکل پر بغیر نمبر پلیٹ کے ایکسپو سینٹر کے قریب گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ سرکاری موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ جزوی طور پر مٹا دی گئی ہے، تاکہ اے آئی کیمروں کو نمبر پڑھنے میں دشواری ہو۔
اسی ویڈیو میں اہلکار کو بائیں جانب مڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ دائیں انڈی کیٹر آن تھا جو ٹریفک قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار اپنے ہمراہ سرکاری اسلحہ لیے ہوئے تھا۔
یہ مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد عوام کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بنے۔ شہریوں نے دوہرا معیار اختیار کرنے پر ٹریفک پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اگر قانون نافذ کرنے والے خود قانون توڑیں گے تو عوام سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟”
تاحال کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب، شہر میں نیا اے آئی ای چالان سسٹم پوری رفتار سے کام کر رہا ہے۔ گزشتہ چھ دنوں میں 26 ہزار سے زائد چالان جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے صرف 24 گھنٹوں میں 3,200 سے زائد چالان شامل ہیں۔ زیادہ تر جرمانے ہیلمٹ نہ پہننے، سیٹ بیلٹ کے بغیر ڈرائیونگ، ریڈ سگنل توڑنے اور تیز رفتاری جیسے جرائم پر کیے گئے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی "فینسی” یا مٹائے گئے نمبر پلیٹ پر چالان جاری نہیں کیا گیا جس نے شفافیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے: جب ٹیکنالوجی عوام کو قانون کے دائرے میں لانے میں کامیاب ہو رہی ہے، تو خود قانون نافذ کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟