کراچی میں مینگرووز کی شجرکاری مہم زور پکڑنے لگی — نوجوانوں کی آواز بلند

کراچی

کراچی کے ساحلی علاقے، جہاں صدیوں سے مقامی آبادیاں سمندر اور زمین کے درمیان ایک نازک توازن میں زندگی گزارتی آئی ہیں، آج ایک نئی بیداری کا مرکز بنتے جا رہے ہیں — اور اس تحریک کی قیادت کوئی سیاستدان یا سرکاری افسر نہیں بلکہ مقامی ماہی گیر برادری کے نوجوان کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ریڑی گوٹھ اور ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے نوجوان ماحول دوست کارکنان نے جوش و جذبے کے ساتھ ایک مینگروو شجرکاری مہم میں حصہ لیا، جو پاکستان فشر فوک فورم (PFF) اور مینگروو بایو ڈائیورسٹی پارک کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ یہ محض درخت لگانے کی سرگرمی نہیں تھی، بلکہ ایک واضح پیغام تھا: ساحلی زمینوں کے اصل نگہبان اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے دوبارہ کھڑے ہو رہے ہیں۔

مینگرووز: ایک قدرتی ڈھال

تقریب کے دوران، نوجوانوں نے نہ صرف پودے لگائے بلکہ ماحولیاتی شعور اور ذمے داری کا مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ مینگروو جنگلات صرف سبز درختوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ قدرتی حفاظتی باڑ ہیں جو ساحلی کٹاؤ، طوفانی لہروں، اور سمندر کی چڑھتی سطح سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

یہ جنگلات مچھلی، کیکڑوں، اور دیگر سمندری حیات کے لیے نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں، جو ماہی گیر برادری کی روزی روٹی کا انحصار ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلیاں اور بے قابو ترقی ہمارے ماحول کو برباد کر رہی ہیں، مینگرووز جیسے جنگلات ہماری آخری دفاعی لائن بن چکے ہیں۔

خطرے میں گھرا ہوا جنگل

بدقسمتی سے، یہ قیمتی جنگلات اب شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، صنعتی آلودگی، اور بغیر منصوبہ بندی کے پھیلتے شہروں نے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی علاقے جہاں کبھی سرسبز جنگلات ہوا کرتے تھے، اب بنجر ہو چکے ہیں، اور اس کے اثرات مقامی کمیونٹیز پر براہِ راست پڑے ہیں۔

تقریب میں شریک نوجوانوں نے زور دے کر کہا کہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ مینگروو جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور بڑے پیمانے پر نئے جنگلات اگانے کی مہمات شروع کی جائیں۔ ان کا پیغام احتجاج میں نہیں، امید میں تھا۔

برادری اور ماحول کا ساتھ

پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین، مهران علی شاہ نے نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا، "مینگرووز ہمارے ساحلی نظامِ زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے بغیر نہ صرف سمندری حیات بلکہ ماہی گیروں کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ صرف سرکاری اداروں یا بیرونی امداد پر انحصار کافی نہیں۔ "حقیقی تبدیلی وہی ہوتی ہے جو برادری سے، عوام سے، اور خاص طور پر نوجوانوں سے شروع ہو۔”

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ PFF مستقبل میں بھی ایسی مہمات جاری رکھے گا، تاکہ نوجوانوں میں ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دیا جا سکے اور ساحلی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

آج کی کاوش، کل کی حفاظت

جب سورج مینگرووز سے مزین ساحلی پٹی کے پیچھے ڈھل رہا تھا، تو زمین میں صرف پودے نہیں، شعور، امید، اور قیادت کے بیج بوئے جا رہے تھے۔

یہ نوجوان صرف ماحول کے نگہبان نہیں، بلکہ ماضی کی روایت اور مستقبل کی پائیداری کے درمیان ایک جیتا جاگتا ربط ہیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں پیغام بالکل واضح ہے: مینگرووز کی حفاظت کریں، اپنے مستقبل کی حفاظت کریں۔

More From Author

سول اسپتال کی لفٹ میں بچے سے زیادتی: کیا یہ پردہ پوشی کی کوشش ہے؟

پاکستان-یو اے ای کے درمیان 10 ارب ڈالر کی تجارت — بحالی کی نوید، مگر قیادت نجی شعبے کو سنبھالنی ہوگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے