ڈونلڈ ٹرمپ کو نظر انداز کر کے وینزویلا کی ماریا کورینا ماچادو کو نوبل امن انعام 2025 سے نواز دیا گیا

اوسلو: وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو ان کے ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے غیر متزلزل جدوجہد پر نوبل امن انعام 2025 سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعلان ناروے کی نوبل کمیٹی نے جمعے کے روز کیا۔

ماچادو، جو طویل عرصے سے وینزویلا کی آمرانہ حکومت پر تنقید کرتی رہی ہیں، کو کمیٹی نے ان کی ’’دلیری اور ظلم کے مقابلے میں جمہوری آزادیوں کے دفاع کے لیے اٹل جدوجہد‘‘ پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمیٹی کے بیان میں کہا گیا: ’’جب آمرانہ قوتیں اقتدار پر قابض ہو جائیں تو ایسے بہادر افراد کو سراہنا ضروری ہے جو آزادی کے دفاع کے لیے کھڑے ہوں، چاہے اس کی قیمت ذاتی قربانیوں کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ مختلف بین الاقوامی معاہدوں میں اپنی کوششوں کے باعث نوبل امن انعام کے حق دار ہیں۔ تاہم، کمیٹی نے اس بار اپنی توجہ امریکی سیاست کے بجائے وینزویلا کی جمہوری جدوجہد پر مرکوز کر کے ایک مختلف پیغام دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات ابتدا ہی سے کم تھے، کیونکہ ان کی خارجہ پالیسی اور بیانات اکثر ان بین الاقوامی اصولوں اور اشتراکِ عمل کے خلاف رہے ہیں جنہیں نوبل کمیٹی بنیادی قدر سمجھتی ہے۔

ماچادو کو یہ انعام ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دنیا بھر میں آمرانہ طرزِ حکومت کے بڑھتے رجحان کے مقابلے میں فردِ واحد کی جرات اور استقامت کو سراہنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ انعام وینزویلا کے عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کی علامت ہے جو معاشی بحران اور ریاستی جبر کے باوجود جمہوریت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

نوبل امن انعام کی رقم ایک کروڑ دس لاکھ سویڈش کراؤن (تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر) ہے، اور یہ تقریب 10 دسمبر کو اوسلو میں منعقد ہوگی وہی تاریخ جس دن الفریڈ نوبل کا انتقال ہوا تھا، جنہوں نے 1895 میں اپنی وصیت کے ذریعے اس ایوارڈ کی بنیاد رکھی تھی۔

ماچادو کی جیت ایک بار پھر اس روایت کو زندہ کرتی ہے جس میں نوبل کمیٹی ایسے رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو طاقت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں اور آزادی کی تحریکوں کو نئی روح دیتے ہیں ایک یاد دہانی کہ حقیقی امن اکثر مسلسل مزاحمت اور اصولی استقامت کے نتیجے میں جنم لیتا ہے، نہ کہ سیاسی دعووں سے۔

More From Author

قیمتوں میں گٹھ جوڑ پر سی سی پی کی بڑی کارروائی، عائشہ اسٹیل ملز پر 64 کروڑ اور انٹرنیشنل اسٹیلز پر 91 کروڑ روپے جرمانہ

کراچی یونیورسٹی میں بس کی زد میں آ کر طالبہ جاں بحق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے