چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی: قازقستان نے قومی شناخت کے نام پر نیا قانون نافذ کر دیا

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کی پالیسیوں سے میل کھاتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں اسلامی طرزِ لباس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

پیر کو دستخط شدہ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے کپڑے جن سے “چہرے کی شناخت میں رکاوٹ پیدا ہو” عوامی مقامات پر ممنوع ہوں گے۔ اگرچہ قانون میں مذہب یا کسی مخصوص مذہبی لباس کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ پابندی واضح طور پر نقاب جیسے لباس کو متاثر کرے گی۔ البتہ طبی وجوہات، شدید موسمی حالات، یا کھیلوں اور ثقافتی تقریبات میں استعمال ہونے والے چہرہ ڈھانپنے والے لباس کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

صدر توقایف اس اقدام کو قومی تشخص کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دے چکے ہیں۔ مقامی میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا، “چہرہ چھپانے والے سیاہ لباس کے بجائے بہتر ہے کہ قومی طرز کا لباس پہنا جائے۔ ہمارے روایتی ملبوسات ہماری نسلی شناخت کو نمایاں کرتے ہیں، اور ہمیں انہیں ہر سطح پر مقبول بنانے کی ضرورت ہے۔”

قازقستان، جو ایک مسلم اکثریتی ملک اور سابق سوویت ریاست ہے، حالیہ برسوں میں سیکولرازم اور ثقافتی قوم پرستی کے نظریے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نیا قانون اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کی طرز پر وضع کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر، کرغیزستان میں پولیس سڑکوں پر گشت کرکے نقاب پر عائد پابندی پر عمل درآمد کراتی ہے، جبکہ ازبکستان میں اس قانون کی خلاف ورزی پر 250 ڈالر سے زائد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تاجک صدر امام علی رحمان نے ایسے لباس پر پابندی عائد کی ہے جو “قومی ثقافت سے ہٹ کر” ہو۔

ان اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے قومی شناخت کو فروغ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین مذہبی آزادی پر حملہ ہیں اور قومی اتحاد کے نام پر مخصوص مذہبی اظہار کو نشانہ بناتے ہیں۔

جہاں ایک طرف یہ قانون ریاستی سیکولرازم اور ثقافتی یکجہتی کے لیے ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ وسطی ایشیا میں مذہب اور جدید ریاست کے درمیان جاری کشمکش کا ایک اور باب بھی کھولتا ہے۔

More From Author

غزہ جنگ کے خلاف احتجاج، اردن نے انڈر-19 باسکٹ بال میچ میں اسرائیل کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا

ٹرمپ کا شامی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ، تعمیر نو کی راہ ہموار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے