سائنسدانوں کو برسوں سے معلوم تھا کہ آسمانی بجلی کیسے گرتی ہے، لیکن وہ اصل فطری عمل جو بادلوں میں بجلی کی شروعات کرتا ہے، اب تک ایک معمہ بنا ہوا تھا۔ اب ایک تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
یہ تحقیق پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر وکٹر پاسکو اور اُن کی ٹیم نے کی ہے۔ اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ بجلی کی شروعات ایک طاقتور زنجیر جیسی ردعمل سے ہوتی ہے—جس میں خلا سے آنے والے کاسمک ریز (تابکار شعاعیں)، طاقتور الیکٹرانز اور ایکس ریز شامل ہوتے ہیں—یہ سب گرجتے بادلوں کے اندر موجود زبردست برقی میدانوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔
معاملہ کچھ یوں ہے:
کاسمک ریز جب زمین کے ماحول سے ٹکراتی ہیں تو وہ ہائی انرجی الیکٹرانز پیدا کرتی ہیں۔ جب یہ الیکٹرانز بادلوں میں موجود برقی میدانوں سے گزرتے ہیں تو وہ ہوا کے مالیکیولز (جیسا کہ نائٹروجن اور آکسیجن) سے ٹکراتے ہیں، جس سے ایکس ریز پیدا ہوتی ہیں۔ یہی عمل مزید الیکٹرانز کو جنم دیتا ہے اور ایک تیز رفتار ردعمل (avalanches) شروع ہو جاتا ہے، جو بالآخر آسمانی بجلی میں بدل جاتا ہے۔
پروفیسر پاسکو کے مطابق، "یہ ہماری پہلی واضح اور مقداری وضاحت ہے کہ قدرت میں آسمانی بجلی کیسے شروع ہوتی ہے۔ ہم نے الیکٹریک فیلڈز، ایکس ریز، اور الیکٹران ایوالانچز کو آپس میں جوڑ کر پورا عمل سمجھا دیا۔”
تحقیقی ٹیم نے ریاضیاتی ماڈلنگ کے ذریعے اس نظریے کی تصدیق کی، جس میں حقیقی دنیا سے حاصل کردہ ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔ پی ایچ ڈی کے طالب علم زید پرویز نے ان ماڈلز کو زمین پر نصب سینسرز، سیٹلائٹس اور جاسوس طیاروں سے حاصل کردہ ڈیٹا سے موازنہ کر کے جانچا۔ انہوں نے خاص طور پر "کمپیکٹ انٹر کلاؤڈ ڈسچارجز” پر توجہ دی، جو گرجدار بادلوں کے اندر چھوٹے علاقوں میں بجلی کی مخصوص اقسام ہوتی ہیں۔
اس ماڈل کا نام "Photoelectric Feedback Discharge” رکھا گیا ہے، جسے 2023 میں شائع کیا گیا۔ یہ ماڈل اس عمل کو بھی سمجھاتا ہے کہ کیسے بعض اوقات گاما رے فلیشز بغیر کسی روشنی یا آواز کے ظاہر ہوتے ہیں—یعنی وہ بجلی جو دکھائی یا سنائی نہیں دیتی، مگر پھر بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔
پاسکو کہتے ہیں، "جب الیکٹرانز بہت زیادہ توانائی حاصل کر لیتے ہیں اور ہوا کے مالیکیولز سے ٹکراتے ہیں تو وہ نئے الیکٹرانز پیدا کرتے ہیں۔ یہ ردعمل بہت چھوٹے علاقوں میں ہوتا ہے اور بعض اوقات روشنی یا آواز اتنی کمزور ہوتی ہے کہ ہم محسوس ہی نہیں کر پاتے۔”
تحقیق میں شامل دیگر سائنسدان NASA، فرانس، چیک ریپبلک اور ڈنمارک کی یونیورسٹیوں سے بھی تھے۔
خلاصہ:
آسمانی بجلی کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک طویل فزیکل عمل کا آخری نتیجہ ہے—جو خلا سے شروع ہو کر زمین تک آتا ہے۔ اور اب، سائنس نے اس عمل کو پوری طرح سمجھ لیا ہے۔