اسلام آباد:
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو بالآخر چار سال بعد برطانیہ کے لیے پروازیں بحال کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔ قومی ایئرلائن نے بدھ کو جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ اسے "تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO)” سرٹیفکیٹ مل گیا ہے، جس کے بعد وہ آئندہ ماہ سے برطانیہ کے لیے مسافر اور کارگو پروازیں دوبارہ شروع کرسکے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ نے جولائی میں پاکستان کو اپنی "ایئر سیفٹی لسٹ” سے نکالا، جس کے بعد پاکستانی ایئرلائنز کو دوبارہ برطانیہ میں پروازوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت دی گئی۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی ایوی ایشن اصلاحات پر اعتماد کا اظہار ہے۔
یاد رہے کہ قرضوں میں جکڑی پی آئی اے پر جون 2020 میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا کی فضاؤں میں پروازوں پر پابندی لگادی گئی تھی، جب اس کا ایئربس A320 طیارہ کراچی کے ماڈل کالونی میں حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یورپ کے لیے پابندی گزشتہ سال ختم کردی گئی تھی، تاہم برطانیہ کی فضاؤں میں پی آئی اے کی واپسی اب ممکن ہوسکی ہے۔
ایئرلائن کے مطابق پروازیں سب سے پہلے مانچسٹر کے لیے بحال ہوں گی، جس کے بعد برمنگھم اور لندن کو بھی نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ اسی روز برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ نے پی آئی اے کو سیکیورٹی اور کارگو کے ACC3 سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے، جو پانچ سال کے لیے موزوں ہوں گے۔ پی آئی اے نے ان سرٹیفکیٹس کو اپنی فضائی آپریشنز اور سیکیورٹی پر مکمل اعتماد کا ثبوت قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پی آئی اے نے وزیرِاعظم، وزیرِخارجہ، وزارتِ دفاع اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بین الاقوامی ریگولیٹرز کے سامنے اس کا کیس پیش کرنے میں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ 2020 کی پابندی اس وقت سامنے آئی تھی جب اس وقت کے وزیرِہوابازی غلام سرور خان نے 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے فضائی حفاظتی معیار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھے۔ اگرچہ ان خدشات نے پی آئی اے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی قومی ایئرلائن کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔