اسلام آباد – 7 اگست 2025:
پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے نئے مالی سال کا آغاز شاندار انداز میں کیا ہے، جہاں جولائی 2025-26 کے دوران برآمدات میں 33.7 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، برآمدات 1.27 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.69 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
یہ اضافہ حالیہ برسوں میں ٹیکسٹائل صنعت کی سالانہ بنیاد پر سب سے بڑی چھلانگوں میں سے ایک ہے۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو جولائی 2021-22 میں برآمدات 1.47 ارب ڈالر، 2022-23 میں 1.48 ارب ڈالر، اور 2023-24 میں 1.31 ارب ڈالر تھیں۔ اس تناظر میں رواں برس کی کارکردگی نہ صرف گراوٹ کا سلسلہ توڑتی ہے بلکہ ایک نئے رجحان کی امید بھی دلاتی ہے۔
گزشتہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی ٹیکسٹائل برآمدات 7.39 فیصد اضافے کے ساتھ 17.89 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو اس سے پچھلے سال 16.66 ارب ڈالر تھیں۔ اس ترقی کے نمایاں محرکات میں نِٹ ویئر (Knitwear) اور بیڈ ویئر (Bedwear) شامل ہیں۔ نِٹ ویئر کی برآمدات 13.68 فیصد اضافے کے ساتھ 5.01 ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ بیڈ ویئر کی برآمدات 11.07 فیصد اضافے سے 3.11 ارب ڈالر ہو گئیں۔
دیگر شعبہ جات نے بھی مستحکم کارکردگی دکھائی۔ تولیے (Towels) کی برآمدات 2.61 فیصد اضافے سے 1.082 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس (تیار ملبوسات) کی برآمدات میں 15.85 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال 80 ملین درجن سے زائد گارمنٹس برآمد کیے گئے جن کی مالیت 4.13 ارب ڈالر رہی، جو پچھلے سال 3.56 ارب ڈالر تھی۔
آرٹ سلک، ریشم، اور مصنوعی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی 8.80 فیصد اضافہ ہوا، جو 83,918 میٹرک ٹن تک پہنچیں اور ان کی مالیت 399.52 ملین ڈالر رہی، جبکہ پچھلے سال یہ 367.20 ملین ڈالر تھی۔
اس کے علاوہ کچھ مخصوص اشیاء کی برآمدات میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ ٹینٹ، کینوس اور ترپال کی برآمدات 6.21 فیصد اضافے سے 124.87 ملین ڈالر ہو گئیں، جبکہ سوت (Yarn) کی وہ اقسام جو کپاس کے علاوہ تیار کی جاتی ہیں، ان کی برآمدات 4.75 فیصد بڑھ کر 34.04 ملین ڈالر تک جا پہنچیں۔ مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ایک بار پھر بہتری کی طرف گامزن ہے۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اگر یہی رفتار قائم رہی تو رواں مالی سال کے اختتام تک شعبہ ٹیکسٹائل نہ صرف ملکی معیشت میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گا، بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ٹیکسٹائل مصنوعات کی ساکھ میں اضافہ ہوگا