اسلام آباد: پاکستان نے چین سے 2 ارب ڈالر سے زائد کی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے ایک ایجنڈا تیار کرلیا ہے، تاکہ چین-پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ یہ پیش رفت جمعہ کے روز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فنانسنگ پلان جلد ہونے والے پاک-چین جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے سی سی) کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ایجنڈے میں وہ منصوبے شامل ہیں جنہیں سی پیک کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جن میں قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) فیز ٹو، ایم ایل ون ریلوے لائن کا ملتان تا روہڑی سیکشن اور گوادر کا ایسٹ بے ایکسپریس وے شامل ہیں۔
باخبر حکام نے بتایا کہ کے کے ایچ فیز ٹو اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی فنانسنگ مانگی گئی ہے، جبکہ ایم ایل ون کے روہڑی تا ملتان حصے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم طلب کی گئی ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق قراقرم ہائی وے فیز ٹو کی ری الائنمنٹ پر تقریباً 500 ارب روپے لاگت آئے گی، جبکہ گوادر کے 14 کلومیٹر طویل ایسٹ بے ایکسپریس وے کی قیمت 30 ارب روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چین دونوں بڑے منصوبوں یعنی کے کے ایچ فیز ٹو اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لیے 85 فیصد فنانسنگ فراہم کرے گا، جبکہ بقیہ لاگت پاکستان برداشت کرے گا۔ اگر یہ فنانسنگ منظور ہوگئی تو سی پیک کے تحت پاکستان کے رابطوں کے منصوبے کو نئی جان ملے گی، جو گزشتہ برسوں میں مالی مشکلات کے باعث تاخیر کا شکار رہا ہے۔