اسلام آباد — پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے خاموشی سے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وزارتِ خزانہ و محصولات کے وزیر محمد اورنگزیب کے مطابق، گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران پاکستان نے 20 ممالک کو 434 مقامی طور پر اسمبل کی گئی گاڑیاں برآمد کیں، جن کی مجموعی مالیت ایک ارب 42 کروڑ روپے رہی۔
یہ اعداد و شمار سینیٹر شہادت اعوان کے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ میں پیش کیے گئے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اگرچہ یہ حجم عالمی آٹو مارکیٹ کے مقابلے میں معمولی ہے، مگر یہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آٹو مینوفیکچرنگ صلاحیت کے لیے ایک حوصلہ افزا اور علامتی پیش رفت ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی گاڑیاں جاپان، افغانستان، متحدہ عرب امارات، قطر، تھائی لینڈ، لبنان، کینیا، لائبیریا، نائجیریا، امریکہ، سری لنکا، چین، بنگلہ دیش، اور گھانا سمیت 20 مختلف ممالک کو برآمد کی گئیں۔ ان گاڑیوں میں مختلف انجن کیپسٹی اور اقسام شامل تھیں، جو مقامی پیداواری معیار میں بتدریج بہتری کی نشاندہی کرتی ہیں۔
سال 2022-23 میں پاکستان نے 100 گاڑیاں 9 کروڑ 47 لاکھ روپے میں برآمد کیں۔ اگلے مالی سال 107 گاڑیاں 38 کروڑ 82 لاکھ روپے میں فروخت ہوئیں، جبکہ 2024-25 میں یہ تعداد بڑھ کر 227 یونٹ تک جا پہنچی، جن کی مالیت 93 کروڑ 69 لاکھ روپے رہی۔
ان برآمدات میں آٹھ معروف آٹو کمپنیوں کا حصہ شامل تھا، جن میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی، ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ، انڈس موٹر کمپنی، ہنڈائی نشاط موٹر، لکی موٹر کارپوریشن، ماسٹر چانگن موٹرز، سازگار انجینئرنگ ورکس، اور یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز شامل ہیں۔
برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں ٹویوٹا کرولا آلٹس، سوزوکی سوئفٹ، سوزوکی آلٹو، ہونڈا سٹی، کے علاوہ منی وینز، ایس یو ویز، اور یہاں تک کہ الیکٹرک رکشے بھی شامل تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی اقسام اور معیار دونوں میں نمایاں تنوع آ چکا ہے۔
اگرچہ مجموعی برآمدی حجم اب بھی محدود ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان پاکستان کو مستقبل میں علاقائی آٹو مینوفیکچرنگ حب کے طور پر ابھرنے کی راہ دکھا رہا ہے۔ مسلسل تین برسوں میں برآمدات میں اضافے نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستانی گاڑیوں کے معیار میں بہتری آئی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اعتماد بڑھ رہا ہے۔