اسلام آباد/تہران: پاکستان اور ایران آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک باہمی تجارت کو آئندہ برسوں میں 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔
تہران کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ایرانی حکام سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تجارت بڑھانے کے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ بات چیت میں سرحدی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، بارٹر ٹریڈ سسٹم کو مزید منظم کرنے اور تاجروں کے لیے کسٹم کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر زور دیا گیا۔
اس وقت دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان سے ایران کو چاول اور گوشت کی برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے تو تجارتی دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
تجارت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے ثقافتی اور سماجی تعلقات کو بھی اہمیت دی۔ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاحت، کاروباری اشتراک اور عوامی روابط بڑھانے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ سرحدی مارکیٹوں اور سہولیات کو بہتر بنانے کو بھی طویل مدتی تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
ان اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے جلد ہی پاکستان اور ایران کا مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس منعقد کرے گا، جس میں موجودہ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے نئی پالیسیاں مرتب کرنے پر غور ہوگا۔
دونوں ممالک کے نزدیک ایف ٹی اے کو اقتصادی شراکت داری کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کرنے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ کامیابی کی صورت میں یہ معاہدہ کاروبار کے نئے مواقع فراہم کرے گا اور دونوں جانب کے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچائے گا۔