واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی آئندہ ملاقات ایک "ابتدائی جانچ پرکھ” ہوگی، جس کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو کے خیالات کو سمجھنا ہے۔ یہ اجلاس جمعہ کو الاسکا میں منعقد ہوگا اور 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔
ٹرمپ، جو کئی بار یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو علاقائی سمجھوتوں کو مسترد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں، نے کہا کہ وہ پوتن کی تجاویز سننا چاہتے ہیں اور پھر انہیں یورپی و نیٹو رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کیف تک پہنچائیں گے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہم دیکھیں گے کہ ان کے ذہن میں کیا ہے۔ اگر یہ مناسب ڈیل ہوئی تو میں اسے یورپی یونین، نیٹو اور صدر زیلنسکی کے ساتھ شیئر کروں گا۔ ہو سکتا ہے میں کہوں، ’اچھا، لڑائی جاری رکھو‘ یا یہ بھی کہوں کہ ’ہم معاہدہ کر سکتے ہیں‘۔”
امریکی صدر، جنہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر بڑے دعوے کیے تھے کہ وہ یہ تنازع 24 گھنٹوں میں ختم کرا سکتے ہیں، اب تک متعدد مذاکراتی کوششوں اور سفارتی روابط کے باوجود کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اگرچہ وہ اکثر اپنی مذاکراتی صلاحیتوں پر زور دیتے ہیں، لیکن انہوں نے الاسکا اجلاس سے فوری نتائج کی توقعات کو کم کرتے ہوئے کہا کہ یہ زیادہ تر "تعمیری بات چیت” ہوگی، کوئی حتمی موڑ نہیں۔
یورپی دارالحکومت اس ملاقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ اور پوتن، یوکرین پر ایسے دباؤ ڈال سکتے ہیں جو اسے ناگوار گزرے۔ جرمن چانسلر فریڈرِخ مرز نے بدھ کو ایک ورچوئل اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں فرانسیسی، برطانوی اور دیگر یورپی رہنما، یورپی یونین اور نیٹو کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔ مرز کے دفتر کے مطابق، اس اجلاس میں "روس پر مزید دباؤ ڈالنے کے اقدامات” اور "ممکنہ امن مذاکرات کی تیاریوں، بشمول سرحدی اور سلامتی سے متعلق امور” پر بات ہوگی۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے، برسلز میں یوکرینی وزیرِ خارجہ آندریئی سبیہا سے ملاقات کے بعد، دوبارہ مؤقف دہرایا کہ یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"جب تک روس مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا، ہمیں کسی قسم کی رعایت پر بات نہیں کرنی چاہیے۔” انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں ماسکو سے کیے گئے سمجھوتے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں یوکرین کے اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق کی حمایت کی اور خبردار کیا کہ "بین الاقوامی سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کی جا سکتیں”۔
صدر زیلنسکی، جو کسی بھی قسم کی زمین دینے کو یکسر مسترد کر چکے ہیں، نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایسا کوئی معاہدہ جو روسی جارحیت کو فائدہ دے، ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا:
"روس قتل و غارت بند کرنے سے انکار کرتا ہے، اس لیے اسے کسی انعام یا فائدے کا مستحق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ صرف اخلاقی مؤقف نہیں بلکہ منطقی بھی ہے — رعایتیں قاتل کو قائل نہیں کرتیں۔” اس کے برعکس ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نہ کسی حد تک زمین کا تبادلہ لازمی ہوگا تاکہ سمجھوتہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا:
"کچھ زمین کا تبادلہ ہوگا، کچھ نقشے میں تبدیلیاں آئیں گی،” لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پوتن سے براہِ راست کہیں گے کہ "تمہیں یہ جنگ ختم کرنی ہوگی