ٹرمپ کا سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات سے قبل ایف-35 طیاروں کی فروخت پر غور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ سعودی عرب کو جدید ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف چند دن بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وائٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات کے لیے پہنچنے والے ہیں ملاقات جس کے خطے کے تزویراتی حالات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ریاض نے باضابطہ طور پر واشنگٹن سے اس فروخت پر پیش رفت کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “وہ بہت سے طیارے خریدنا چاہتے ہیں، میں اس پر غور کر رہا ہوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں اسے دیکھوں۔ وہ ایف-35 ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ لڑاکا طیارے خریدنا چاہتے ہیں۔ ہم سب سے بہترین جیٹ اور بہترین میزائل بناتے ہیں آپ نے دیکھا کہ ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کیسے ختم کی۔”

ٹرمپ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ولی عہد کی یہ واشنگٹن آمد محض رسمی ملاقات نہیں ہوگی۔ امریکی صدر کے مطابق، “یہ ایک ملاقات سے بڑھ کر ہے ہم سعودی عرب کو اعزاز دے رہے ہیں۔” توقع ہے کہ ملاقات میں دفاعی تعاون، اقتصادی معاہدے، جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت اور خطے کی نئی سفارتی ترتیب پر تفصیل سے بات ہوگی۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاض مستقبل میں ابراہام معاہدوں کا حصہ بن سکتا ہے وہ سفارتی فریم ورک جس کے تحت کئی عرب ممالک نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔

اگرچہ ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت واشنگٹن میں بحث چھیڑ سکتی ہے، کیونکہ بعض دفاعی حکام حساس ٹیکنالوجی کے تبادلے اور خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں، لیکن ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وسیع تر سفارتی و دفاعی حکمتِ عملی پر اتفاق ہو جائے — جس میں غزہ کے لیے ایسا امریکی منصوبہ بھی شامل ہے جو بالآخر فلسطینی ریاست کی راہ ہموار کرے تو وہ اس سودے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

More From Author

امریکی منرل فرم نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا

نواز شریف طبی معائنے کے لیے لندن روانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے