واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا تجویز کردہ "بگ بیوٹی فل بل” کانگریس سے منظور نہ ہوا تو امریکی شہریوں پر ٹیکسز میں 68 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل امریکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے اس بل کو امریکی معیشت کو "اربوں ڈالر کے نقصان” سے بچانے اور نئے ٹیرفز کے ذریعے بحال کرنے کی کنجی قرار دیا۔ انہوں نے کہا:
"اگر یہ بل منظور نہ ہوا تو آپ کے ٹیکسز 68 فیصد بڑھ جائیں گے — یہ حقیقت ہے۔ لیکن جب یہ بل منظور ہو جائے گا تو نہ ٹِپس پر ٹیکس ہوگا اور نہ سوشل سیکیورٹی پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔”
ٹرمپ نے امریکی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے کانگریس اور سینیٹ نمائندوں سے رابطہ کریں اور اس بل کی حمایت پر زور دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی متوسط طبقے اور محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں امریکی فضائی حملوں نے "مکمل طور پر ہدف کو تباہ کر دیا۔” انہوں نے کہا، "جو میڈیا یہ تسلیم نہیں کرتا وہ جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔”
امیگریشن کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو ہر سال 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے گا، جن میں بڑی تعداد جرائم پیشہ افراد کی ہوگی۔
"بائیڈن حکومت کے دوران 11 ہزار سے زائد قاتل امریکہ آئے، لیکن اب ہم غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کو سرحد پار داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اپنا ملک واپس لے رہے ہیں۔”
"بگ بیوٹی فل بل” کے بارے میں تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اسے ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے اہم نکات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ معیشت کی بحالی، سخت سرحدی پالیسی، اور میڈیا پر تنقید کو مرکزی حیثیت دے رہے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہے، ٹرمپ کے یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر ٹیکس، امیگریشن اور قومی سلامتی جیسے مسائل کو اپنی مہم کا محور بنا رہے ہیں — وہی نکات جن پر ان کی پہلی صدارت کی بنیاد تھی