لاہور — وزیرِاعظم برائے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناءﷲ نے ہفتہ کو ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان جارحیت کا آغاز نہیں کرے گا، مگر اگر کسی نے حملہ کیا تو ریاست خاموش نہیں رہے گی اور فوری، طاقتور اور فیصلہ کن جواب دے گی۔
صحافیوں سے گفتگو میں رانا ثناءﷲ نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی شفاف ہے: “ہم کسی پڑوسی کے خلاف جارحیت نہیں کریں گے۔ البتہ اگر کوئی ہمیں نشانہ بنائے گا تو ہم اسے بے جوابی نہیں چھوڑیں گے۔” اُنہوں نے اشارہ دیا کہ جواب اس سابقہ کاروائی سے بھی آگے جا سکتا ہے جسے بعض حلقوں نے "اسکور صفر چھ” کہا مئی 2025 کے تنازعے میں بھارتی طیارے گرائے جانے کا حوالہ۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مشیر نے سرحدی واقعات پر افسوس کا اظہار کیا جن میں پاکستانی جانیں ضائع ہوئیں۔ “ہم نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا رویہ رکھا ہے، مگر یہ جان چھین لینے والی وارداتیں ہمارے لیے باعثِ تکلیف ہیں۔ ہم اپنے اہلِ کار کے تابوتیں اٹھاتے رہیں گے تو یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
رانا ثناءﷲ نے شہریوں اور دہشت گردوں میں واضح امتیاز کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی کی پالیسی اختیار کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ “اب واضح فرق کیا جائے — عام لوگ اور دہشت گرد الگ ہیں۔ جو ریاست کے خلاف تشدد اپناتے ہیں ان کے ساتھ مکالمہ کا دروازہ بند ہے۔
انہوں نے بیرونی مداخلت کے الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھارت پر بھی سنگین تنقید کی اور کہا کہ “بھارت کا ملوث ہونا واضح ہے — انہوں نے تو ان الزامات کی تردید تک گنوائی نہیں۔” ساتھ ہی اُنہوں نے واضح کیا کہ نئی دہلی کے لیے زمینی حملے کا امکان نہ سمجھا جائے، کیونکہ پاک فوج ہر صورت میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ “اگر انہوں نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو ہماری مسلح افواج سخت جواب دیں گی وہ ہمیں قابو میں نہیں کر سکتے۔
ملکی سطح پر رانا ثناءﷲ نے کہا کہ پنجاب مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہے اور عمل کو گلی محلوں تک لے جایا جائے گا تاکہ عام شہری براہِ راست گورننس میں حصہ لے سکیں۔
ایک سوال کے جواب میں جو خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے وائرل ویڈیو پر ملا — جس میں میز پر چھوٹا قومی پرچم اور پس منظر میں بڑے پی ٹی آئی و صوبائی جھنڈے دکھائی دے رہے تھے — مشیر نے کہا کہ “فٹیج میں ایڈیٹنگ ہوئی ہے” اور تفصیل بتانے سے گریز کیا، مگر مؤقف یہ تھا کہ وائرل شبیہہ عین مطابق منظر پیش نہیں کرتی۔
آخر میں رانا ثناءﷲ نے دہرایا کہ پاکستان امن اور استحکام کا خواہاں ہے، مگر خودمختاری کو خطرہ پہنچنے کی صورت میں ریاست “مناسب اور مضبوط” ردعمل دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔