کراچی:
پاکستان، جو کبھی وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کا گہوارہ تھا جہاں پانچ ہزار سال قبل تانبہ اور کانسی استعمال میں لائے جاتے تھے، اب اپنی اسی میراث کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیشنل ریسورسز اینڈ انرجی سمٹ 2025 میں ماہرین نے زور دیا کہ مقامی سرمایہ کار عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کریں تاکہ ملک کے وسیع اور ابھی تک غیر دریافت شدہ معدنی وسائل کو بروئے کار لایا جا سکے، اور پاکستان کو غیر ملکی استحصالی رویّوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے سی ای او شمس الدین اے شیخ نے کہا کہ اگر شعبۂ کان کنی کو درست طریقے سے ترقی دی گئی تو موجودہ دو ارب ڈالر کی آمدن 2030 تک بڑھ کر چھ سے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: "پاکستانی صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کو آگے بڑھنا ہوگا۔ غیر ملکی سرمایہ اور مہارت اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سب کچھ ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے جسے ہم خود نہ کر سکیں۔ پانچ ہزار سال پہلے موہنجو داڑو کے لوگ تانبہ صاف کر رہے تھے، تو آج ہم کیوں نہیں کر سکتے؟”
دنیا کی دولت مند ترین معدنی پٹی پر موجود ہونے کے باوجود پاکستان کا حصہ عالمی کان کنی میں محض 0.15 فیصد ہے جبکہ ملکی جی ڈی پی میں اس کا حصہ صرف 2 سے 3 فیصد ہے۔ شیخ کے مطابق ملک میں دریافت شدہ 92 معدنیات میں سے تقریباً 90 فیصد اب بھی غیر استعمال شدہ ہیں۔ "اگر ہم نے ابھی قدم نہ بڑھایا تو پھر کوئی اور بڑھ جائے گا،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شراکت داری ضروری ہے جو مقامی روزگار اور مہارت بھی پیدا کرے۔
انہوں نے ریکو ڈک جیسے منصوبوں کی مثال دی جو سالانہ چار سے پانچ ارب ڈالر کی آمدن دے سکتے ہیں، جبکہ سیاح ڈک، تھر کول میں توسیع اور دیگر منصوبے اگلے پانچ برسوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ 2030 کے بعد بلوچستان کے چاغی میں مزید تانبے اور سونے کی تلاش سے سالانہ پانچ سے دس ارب ڈالر تک کا اضافہ ممکن ہے۔
تاہم شیخ نے زور دیا کہ کان کنی کو محض مالی فائدے تک محدود نہ رکھا جائے۔ "یہ صرف معدنیات نکالنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ کمیونٹیز بنانے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ منصوبے کامیاب ہوں تو ہمیں ان علاقوں کے عوام کو روزگار، رہائش، صحت اور تعلیم فراہم کرنی ہوگی،” انہوں نے کہا۔
دیگر ماہرین نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔ فیڈیلیٹی انشورنس بروکرز کے بانی حسن آر محمدی نے کہا کہ معدنیات اور توانائی کے شعبے "ترقی کے انجن” ہیں جو روزگار پیدا کر سکتے ہیں، توانائی کے تحفظ کو بڑھا سکتے ہیں اور زرِمبادلہ کما سکتے ہیں۔ کمپنی کے سی ای او خرم علی خان نے اربوں ڈالر کے منصوبوں میں انشورنس کے کردار پر زور دیا جو غیر یقینی حالات میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو قائم رکھتی ہے۔
لکی سیمنٹ کے چیئرمین محمد سہیل طباع نے ریکو ڈک کو پاکستان کی سب سے روشن امید قرار دیا۔ "یہ منصوبہ تنہا کھربوں روپے کی آمدن اور ہزاروں روزگار پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عوام کو یہ اعتماد دیتا ہے کہ ان کا مستقبل اسی سرزمین میں محفوظ ہے،” انہوں نے کہا۔
تقریب کے اختتام پر ماہرین کا ایک ہی پیغام نمایاں تھا: پاکستان کے معدنی وسائل کا اصل فائدہ تبھی قوم کو ملے گا جب مقامی سرمایہ کار آگے بڑھیں، عالمی شراکت داری کریں، اور یہ یقینی بنائیں کہ ان وسائل کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے پاکستانی ہی ہوں، نہ کہ غیر ملکی۔