ایمرجنسی سروسز کو پہاڑی دیہاتوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، جہاں کئی متاثرہ لوگ اب بھی منہدم گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ کنڑ کے ضلع نورگل کے مقامی افسر اعجاز الحق یاد نے بدھ کو بتایا کہ کچھ دیہات اب تک امداد سے محروم ہیں۔
6.0 شدت کا زلزلہ اتوار کو پاکستان کی سرحد کے قریب آیا، جس کے بعد لوگ آفٹر شاکس کے خوف سے کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ طالبان حکام کے مطابق کم از کم 1,411 افراد جاں بحق اور 3,124 زخمی ہوئے، جو افغانستان میں کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے ہلاکت خیز زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔
زیادہ تر ہلاکتیں کنڑ میں ہوئیں، جبکہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی و مالی نقصان ہوا۔
مزار درہ کی رہائشی 80 سالہ گل بی بی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کا پورا خاندان مٹی اور ملبے میں دب گیا۔ “میں نے سب کچھ کھو دیا۔ صرف یہ پوتا بچا ہے،” انہوں نے اپنی گود میں موجود بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
زلزلے سے ہونے والے لینڈ سلائیڈز نے پہلے سے کٹے ہوئے علاقوں تک رسائی روک دی ہے۔ انسانی ہمدردی کی تنظیم "سیو دی چلڈرن” کے مطابق اس کی ایک ٹیم کو 20 کلومیٹر پیدل چل کر طبی سامان لے جانا پڑا تاکہ متاثرہ دیہات تک پہنچ سکیں۔