مائیکروسافٹ نے آخرکار اپنے ‘موویز اینڈ ٹی وی’ اسٹور کو بند کر دیا ہے، جو تقریباً انیس سال سے فعال تھا۔ اس کے بعد صارفین اب ونڈوز پی سی یا ایکس باکس کنسولز پر فلمیں یا ٹی وی شوز خرید یا کرائے پر نہیں لے سکیں گے۔ تاہم، جو فلمیں یا شوز پہلے سے خریدے گئے ہیں، وہ اب بھی Movies & TV ایپ کے ذریعے اسٹریمنگ یا ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں—جب تک کہ یہ ایپ اور اس کے سرورز فعال ہیں۔ موجودہ مواد HD کوالٹی میں دستیاب رہے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، اب صارفین اپنی لائبریری میں نیا مواد شامل نہیں کر سکتے، اور مائیکروسافٹ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پرانی خریداریوں پر کسی قسم کی رقم واپس نہیں کرے گا۔ جو لوگ نیا مواد دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں اب نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم ویڈیو، ڈزنی پلس، ایپل ٹی وی پلس یا دیگر OTT پلیٹ فارمز کا رخ کرنا ہوگا۔
یہ پلیٹ فارم سب سے پہلے 2006 میں Zune Marketplace کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جو مائیکروسافٹ کا پہلا بڑا قدم تھا ڈیجیٹل ویڈیو فروخت میں۔ پھر اسے 2012 میں Xbox Video کا نام دیا گیا، اور آخرکار 2015 میں ‘موویز اینڈ ٹی وی’ بنا دیا گیا۔
حالیہ سپورٹ اپ ڈیٹ میں مائیکروسافٹ نے بتایا ہے کہ خریدا گیا مواد کسی اور سروس پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، امریکہ میں رہنے والے صارفین "Movies Anywhere” سروس کے ذریعے اپنی کچھ منتخب فلموں کو دوسری سروسز سے لنک کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ مائیکروسافٹ کی ڈیجیٹل مواد کی فروخت سے مرحلہ وار دستبرداری کی ایک اور مثال ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برسوں میں اس میدان سے پیچھے ہٹنے کی پالیسی اپنائی ہے، جیسا کہ 2017 میں Groove Music کو بند کر کے صارفین کو Spotify کی طرف منتقل ہونے کی تجویز دی گئی تھی۔ اب کمپنی اپنی توجہ سافٹ ویئر، گیمنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور AI پر مرکوز کر رہی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مائیکروسافٹ بڑی سطح پر ملازمین کو فارغ کر رہا ہے۔ مئی 2025 میں کمپنی نے تقریباً 6,000 ملازمین کو نکالا—جو اس کے عالمی عملے کا 3% بنتے ہیں۔ زیادہ تر کمی انجینئرنگ اور مینجمنٹ میں کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جون 2025 میں ایک اور مرحلہ آیا، جس میں سیلز ٹیم متاثر ہوئی۔
یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب کمپنی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں ایک بڑا سائبر سیکیورٹی واقعہ شامل ہے، جس میں حساس سرکاری معلومات لیک ہوئیں، اور ساتھ ہی OpenAI کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی، جس میں مائیکروسافٹ نے اب تک تقریباً 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اختلافات زیادہ تر ریونیو شیئرنگ اور OpenAI کے بزنس ماڈل پر ہیں جو اب ایک منافع بخش ادارہ بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔