اتوار کے روز قومی اقلیتوں کے دن کے موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے حقوق، عزت اور شمولیت کے تحفظ کے عزم کو ایک مرتبہ پھر دہرایا۔ دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی ملک کی یکجہتی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر اور وزیرِاعظم نے الگ الگ پیغامات میں قوم سازی میں اقلیتوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے سماجی و سیاسی ڈھانچے کا لازمی جزو قرار دیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اُس وژن کو یاد کیا جس میں تمام مذاہب کے شہری برابری اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ دن ہمیں اس قومی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر شعبۂ زندگی میں اقلیتوں کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر قسم کے امتیاز، انتہا پسندی اور عدم برداشت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ کہ تنوع کسی تقسیم کا نہیں بلکہ طاقت کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو، مذہب یا نسل سے قطع نظر، برابر کے حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتی برادریوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پُرعزم ہے — چاہے وہ سرکاری ادارے ہوں یا پارلیمان۔ انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو ریاست کی ’’بنیادی ذمہ داری‘‘ قرار دیا اور بانیٔ پاکستان کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر کو مذہبی آزادی اور برابری کا رہنما اصول قرار دیا۔
شہباز شریف نے سکھ، مسیحی، ہندو، پارسی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے پاکستان کی ترقی میں کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی شمولیت ایک پُرامن اور خوشحال پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ قومی اقلیتوں کا دن ہر سال 11 اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور خدمات کو تسلیم کیا جا سکے اور پاکستان کے قائداعظم کے شمولیتی وژن سے تجدیدِ عہد کیا جا سکے