سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت کا ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے پیشِ نظر ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔

بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ وہ جلد چاروں صوبوں کے وزرائےاعلیٰ اور متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کریں گے تاکہ جانی و مالی نقصانات کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جس کے باعث کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ کابینہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، متاثرہ کسانوں کو معاوضہ دینے اور زرعی شعبے کو دوبارہ کھڑا کرنے جیسے اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں ایک اور اہم نکتہ سوشل میڈیا پر شہداء اور مسلح افواج کے خلاف نازیبا مواد کی مذمت تھا۔ کابینہ نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ مسلح افواج اور ان کے خاندانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ اجلاس میں میجر عدنان اسلم شہید کے لیے دعا بھی کی گئی جنہوں نے بنوں آپریشن میں جامِ شہادت نوش کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کی والدہ، وزیر مملکت ملک رشید احمد خان کے بڑے بھائی اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے والد کے انتقال پر بھی اظہارِ تعزیت کیا گیا۔

بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے اسرائیل کے دوحہ پر بمباری کو "غیر قانونی اور سنگین جرم” قرار دیا اور امیرِ قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

کابینہ نے اقتصادی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری بھی دی۔ وزارتِ پیٹرولیم کی تجویز پر ایل این جی کنکشنز کا اجراء شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی، ایل پی جی کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد سستی ہو گی جس سے گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا۔

اسی طرح ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے لنک کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے سہ فریقی معاہدے کی توثیق بھی کی گئی۔ منصوبہ خطے میں تجارت اور روابط کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔ کابینہ نے اس کے بروقت آغاز پر زور دیا۔

مزید برآں، اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، بین الحکومتی تجارتی کمیٹی اور کابینہ کی قانون سازی کمیٹی کے سابقہ فیصلوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔

ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کی اصولی منظوری کے بعد حکومت اب ایک جامع منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد متاثرہ کسانوں کو سہارا دینا، تباہ شدہ زمینوں کی بحالی اور ملک کو مستقبل میں موسمیاتی جھٹکوں سے محفوظ بنانا ہے۔

More From Author

سولر صارفین پر مزید بوجھ، لیسکو نے میٹر کی قیمت دگنی کر دی

بارشوں کے بعد 12 ارب روپے لاگت سے تعمیر نیا حب کینال ٹوٹ گیا، کراچی میں پانی کا بحران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے