گرفتاری کے وارنٹ جاری، پرانے حملے کی بھی تفتیش شروع
کراچی – 8 اگست 2025:
سینئر سپریم کورٹ وکیل خواجہ شمس الاسلام کے ٹارگٹ کلنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے آٹھ مرکزی ملزمان کی شناخت کر لی ہے اور انسداد دہشتگردی عدالت (ATC) میں ابتدائی تفتیشی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
یہ رپورٹ کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں عدالت کے روبرو پیش کی گئی، جو کہ مقتول کے بھائی خواجہ فیصل کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر تیار کی گئی۔
کیس میں قتل، اقدامِ قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق، خواجہ شمس الاسلام کو 2 اگست کو جمعہ کی نماز کے بعد اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ خیابانِ راحت پر واقع قرآن اکیڈمی میں ایک عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کر رہے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عین مسجد کی سیڑھیوں پر ملزم عمران آفریدی نے ان پر فائرنگ کی اور ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق، جن آٹھ مفرور ملزمان کی شناخت ہوئی ہے، ان میں شامل ہیں:
عمران آفریدی، زرار آفریدی، انعام خان، عثمان آفریدی، تقدیر، بہار گل، خستہ گل، اور شہریار۔
واقعے کے وقت خواجہ شمس الاسلام کے ہمراہ ان کے بیٹے خواجہ دانیال الاسلام اور خواجہ حمزہ الاسلام، ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔
باوجود سیکیورٹی کے، حملہ آوروں نے انتہائی بے خوفی سے فائرنگ کرتے ہوئے خواجہ صاحب کو نشانہ بنایا۔
ایف آئی آر کے مطابق، عمران آفریدی ولد نبی گل آفریدی نے دو گولیاں چلائیں، ایک خواجہ شمس الاسلام کو لگی، جبکہ دوسری ان کے بیٹے دانیال کو زخمی کر گئی۔
خواجہ حمزہ الاسلام نے فوری طور پر والد اور بھائی کو ساوتھ سٹی اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے خواجہ شمس الاسلام کو جاں بحق قرار دیا، جبکہ دانیال کو مزید علاج کے لیے آغا خان اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
تحقیقات میں ایک پرانے حملے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو 14 نومبر 2024 کو پیش آیا تھا۔ اس میں عمران آفریدی اور 20 کے قریب مسلح افراد نے خواجہ شمس الاسلام پر حملہ کیا تھا۔
یہ واقعہ کلفٹن تھانے میں رپورٹ ہوا تھا، جس میں ہوائی فائرنگ اور جسمانی تشدد کی دفعات شامل تھیں، لیکن اس پر کوئی خاطرخواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
اس بہیمانہ قتل اور مسلسل دھمکیوں نے ملک بھر کی قانونی برادری میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
سندھ بار کونسل نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے 4 اگست کو صوبے بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
ایک مشترکہ بیان میں وائس چیئرپرسن شفقت رحیم اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی محمد سعید نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کی اور کہا:
"یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے کہ ایک سینئر وکیل کو انتہائی منظم انداز میں قتل کیا گیا، اور اس کے باوجود مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، حالانکہ اس نے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔” قانونی حلقے اب ملزمان کی فوری گرفتاری اور شفاف ٹرائل کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ پہلے سے موجود دھمکیوں کے باوجود سیکورٹی کیوں ناکام ہوئی؟