اسلام آباد – پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی ایجاد ’’اسکائی کلینک‘‘ ٹیلی میڈیسن ٹرمینل کو آئی ٹی سی این ایشیا 2025 ٹیکنالوجی نمائش میں پیش کرے گا، جو 23 سے 25 ستمبر کو کراچی میں منعقد ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد ملک کے دور دراز اور محروم علاقوں میں قابلِ اعتماد طبی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
’’اسکائی کلینک‘‘ کو سپارکو کے پاک سیٹ ایم ایم ون سیٹلائٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جو ایسے علاقوں میں بھی خدمات فراہم کرسکتا ہے جہاں روایتی طبی ڈھانچہ موجود نہیں یا ناکافی ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام مشکل جغرافیائی حالات میں بھی محفوظ اور تیز رفتار رابطے کی سہولت دیتا ہے، جس کی بدولت دور افتادہ بستیوں کے مریض براہِ راست ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کرسکتے ہیں۔
یہ ٹرمینل تشخیصی آلات، وائیٹل سائنز مانیٹرنگ ڈیوائسز اور براہِ راست طبی مشاورت کو یکجا کرتا ہے، یوں صحت کی سہولیات میں موجود خلا کو پُر کرتا ہے۔ سپارکو کے بیان میں کہا گیا: ’’ہیلتھ ریکارڈ سسٹمز کے ساتھ باآسانی انضمام اور فوری تعیناتی کی خصوصیات کے ساتھ یہ حل صحت کی سہولیات کو وسعت دینے کا ایک مؤثر ماڈل فراہم کرتا ہے۔‘‘
ماہرین کے مطابق ’’اسکائی کلینک‘‘ اپنی پورٹیبل اور صارف دوست خصوصیات کے باعث کسی بھی علاقے میں تیزی سے نصب اور فعال کیا جاسکتا ہے، جب کہ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے ذریعے ملک گیر کوریج فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سہولت دیہی آبادی کے لیے ایک زندگی بچانے والی ایجاد ثابت ہوسکتی ہے، جہاں بنیادی طبی سہولیات تک رسائی اکثر ناممکن ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ سپارکو نے مئی 2024 میں چین کے تعاون سے پاکستان کا پہلا ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ ’’پاک سیٹ ایم ایم ون‘‘ خلا میں بھیجا تھا، جو اکتوبر اسی سال مکمل طور پر فعال ہوگیا تھا۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف ٹیلی کمیونیکیشن سروسز بلکہ آفات سے نمٹنے، سیلاب کی نگرانی، فصلوں کی جانچ، اور شہری منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سپارکو کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی میڈیسن منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح خلائی ٹیکنالوجی کو قومی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ادارے کے مطابق: ’’یہ جامع حکمتِ عملی اس بات کی نئی تعریف کرتی ہے کہ ایسے مقامات پر جہاں روایتی ڈھانچہ موجود نہیں، صحت کی سہولت کس طرح فراہم کی جاسکتی ہے۔‘‘
ادارہ عوام اور ماہرین کو دعوت دے رہا ہے کہ وہ کراچی ایکسپو میں اس جدید سہولت کا قریب سے مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح خلائی ٹیکنالوجی صحت کی سہولیات کو نئی جہت دے رہی ہے۔