سویڈا میں جنگ بندی: راکھ، درد اور بے یقینی کے درمیان ایک نازک صلح

19 جولائی 2025 | سویڈا، شام
ایک ہفتے کی مسلسل خونریزی، جلتی سڑکوں اور بے گھر ہوتے عوام کے بعد، شام کے جنوبی صوبے سویڈا میں بالآخر اسرائیل اور شامی حکومت کے درمیان ایک نازک جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جو گزشتہ کئی دنوں میں شام کی خانہ جنگی کا نیا اور خونی مرکز بن گیا۔

یہ جنگ بندی ترکی، اردن اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جب کہ زمینی جھڑپوں میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ لڑائی بنیادی طور پر بدو جنگجوؤں اور دروز اقلیت کے گروہوں کے درمیان شروع ہوئی تھی، مگر جلد ہی ایک علاقائی بحران میں بدل گئی۔

ایک چنگاری جو شعلہ بن گئی

یہ جھڑپیں مقامی سطح پر شروع ہوئیں، مگر اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب اسرائیل نے دمشق اور شام کے جنوبی علاقوں میں شامی سرکاری افواج کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ شام میں مقیم دروز اقلیت کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے — ایک ایسی مذہبی اقلیت جو لبنان اور اسرائیل میں بھی موجود ہے۔

تاہم، ان حملوں نے پہلے سے بکھری ہوئی صورتحال کو مزید تباہ کن بنا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی میزائل رہائشی علاقوں اور سرکاری عمارتوں کے قریب گرے، اور ایک کمزور ریاست کو مزید غیر مستحکم کر دیا۔

"چار دن سے نہ بجلی ہے، نہ پانی، نہ کھانے کو کچھ۔” 28 سالہ مدر نے فون پر بتایا، جو سویڈا کا رہائشی ہے۔ "لوگ باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں — گولیاں کسی کو نہیں بخش رہیں، چاہے وہ عام شہری ہو یا کسی بیمار کے لیے دوا لینے گیا ہو۔”

مشروط جنگ بندی

جمعے کے روز، بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کے بعد، اسرائیل نے 48 گھنٹوں کے لیے شامی سیکیورٹی فورسز کو سویڈا میں محدود انٹری کی اجازت دے دی۔ مقصد یہ تھا کہ حالات قابو میں لائے جائیں اور خونریزی کا سلسلہ عارضی طور پر رکے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے میڈیا کو بتایا:
"جنوبی شام میں عدم استحکام کے پیشِ نظر، اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے لیے شامی داخلی سیکیورٹی فورسز کو سویڈا کے ضلع میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔”

یہ فیصلہ اسرائیل کے پرانے مؤقف کے بالکل برعکس ہے، جو ہمیشہ سے شامی افواج کو جنوبی سرحد کے قریب آنے سے روکنے پر زور دیتا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام شام کی نئی، اسلام پسند قیادت پر گہرے شکوک کا اظہار کر چکے ہیں، اور ان حکام کو "نقاب پوش شدت پسند” قرار دے چکے ہیں۔

امریکہ کی نازک سفارتی چال

اسرائیل نے ان حملوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دفاعی قدم قرار دیا ہے، لیکن امریکہ نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ اس نے ابتدائی جنگ بندی میں مدد کی، مگر اسرائیلی فضائی حملوں کی کھلے عام حمایت سے گریز کیا۔

امریکہ کے ترکی میں سفیر، ٹام بیرک نے ایک پوسٹ میں کہا:
"ہم دروز، بدو اور سنی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہتھیار رکھیں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل کر ایک نیا اور متحد شامی تشخص تعمیر کریں۔”

لیکن زمینی صورتحال ان دعووں سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ جمعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں بدو جنگجو سویڈا میں داخل ہو رہے تھے۔ مقامی صحافیوں اور عینی شاہدین کے مطابق، جنگ بندی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

انسانی بحران کی تصویر

دھماکوں اور توپوں کی گھن گرج کے پیچھے ایک کڑوی حقیقت چھپی ہے — سویڈا اس وقت مکمل انسانی بحران کا شکار ہے۔

شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کے مطابق اتوار سے اب تک 321 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور طبی عملہ بھی شامل ہے۔ 500 سے زائد افراد زخمی، جبکہ سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ کچھ علاقوں سے فیلڈ میں قتل، گھروں کو جلانے اور لوگوں کو ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی تصدیق کی کہ ایک خاندان کی تقریب پر حملہ کر کے 13 افراد کو قتل کیا گیا، جب کہ چھ افراد کو ان کے گھروں کے باہر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

"یہ زمین کا جھگڑا نہیں، یہ بدلے کی آگ ہے،” معروف مقامی صحافی ریان معروف نے بتایا، جو Sweida24 نامی نیوز پلیٹ فارم چلا رہے ہیں اور آج بھی سویڈا میں موجود ہیں۔

بجلی بند، پانی ناپید، امداد رکی ہوئی

صوبے کے شمالی اور مغربی علاقوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔ شہریوں کے لیے زندگی کا معمول انتہائی کٹھن بن چکا ہے۔ بجلی کئی دنوں سے بند ہے۔ پیٹرول ختم ہو چکا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء گل سڑ چکی ہیں، یا مکمل ناپید ہیں۔ فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں، جس سے لوگ نہ صرف دنیا سے، بلکہ ایک دوسرے سے بھی کٹ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی امداد کو داخلے کی اجازت دیں۔ امدادی قافلے صوبہ درعا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ابھی تک سویڈا میں داخل نہیں ہو پائے۔

نازک امن، بے یقینی کا سایہ

شام کی عبوری حکومت نے امن قائم کرنے کے لیے فورسز کی تعیناتی کا اعلان تو کیا ہے، مگر زمینی سطح پر امن کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ صدر احمد الشراع، جو حالیہ مہینوں میں مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ شام میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملک کو مزید تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

لیکن سویڈا کے عام لوگوں کے لیے یہ سیاست ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑی ضرورت ہے: تحفظ، پانی، اور رات کو بغیر دھماکوں کے نیند۔

یہ جنگ بندی صرف کاغذ پر قائم ہے۔ اگر اسے قائم رکھنا ہے، تو اس کے لیے صرف سفارت کاری نہیں، بلکہ ایمانداری، انسانیت، اور ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

"یہ اب جیتنے کی لڑائی نہیں،” مدر نے کہا، "یہ اب صرف زندہ رہنے کی جنگ ہے۔”

More From Author

ایل پی جی ٹینکر "گیس فالکن” موزمبیق میں ادائیگی کے تنازع پر تحویل میں — پاکستانی عملہ سمندر میں قید

کراچی کا بڑھتا ہوا پانی بحران: گھارو پمپنگ اسٹیشن بند، شہری پریشان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے