ماہرینِ صحت نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5,000 خواتین کو سروائیکل کینسر تشخیص ہوتا ہے اور ان میں سے 3,000 سے زائد اپنی جانیں گنوا دیتی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی یہ مرض خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔
اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سندھ محکمہ صحت نے 12 روزہ ایچ پی وی (HPV) ویکسینیشن مہم کا اعلان کیا ہے، جو 15 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 9 سے 14 سال کی 41 لاکھ بچیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ اس کے علاوہ جنوری 2026 سے پورے ملک میں نو سالہ بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کو معمول کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
یہ مہم جھپیگو (Jhpiego)، ڈبلیو ایچ او (WHO)، یونیسیف (UNICEF)، گاوی (Gavi) اور دیگر اداروں کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔ سندھ کے ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) اور جھپیگو کے اشتراک سے منعقدہ میڈیا بریفنگ میں “صحت مند بیٹی، صحت مند خاندان” کے نعرے کے تحت ماہرین نے ایچ پی وی ویکسین کی اہمیت اور عوامی شعور اجاگر کرنے میں میڈیا کے کردار پر زور دیا۔
وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر، ڈاکٹر خرم اکرم نے بتایا کہ 2022 میں دنیا بھر میں 348,000 خواتین سروائیکل کینسر سے جاں بحق ہوئیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5,008 نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور 3,000 سے زائد خواتین اس مرض کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سروائیکل کینسر خواتین میں تیسرا عام ترین کینسر ہے اور تولیدی عمر کی خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
ڈاکٹر خرم اکرم نے کہا:
“میڈیا کے ذریعے والدین اور کمیونٹیز کو ویکسین کے فائدے سمجھائے جا سکتے ہیں۔ یہ ویکسین ہماری بیٹیوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔”