اسلام آباد — جماعتِ اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشاق احمد خان جمعرات کے روز اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے۔ وہ گلوبل سُمود فلوٹیلا نامی انسانی ہمدردی کے مشن کا حصہ تھے جو محصور غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کی واپسی ایک جذباتی اور تاریخی لمحہ بن گئی، جہاں سینکڑوں کارکنان اور فلسطین کے حامی شہری ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔ جماعتِ اسلامی کے کارکنوں سمیت مختلف سماجی تنظیموں کے افراد نے فلسطینی پرچم لہرائے اور غزہ کے حق میں نعرے لگائے۔ ایئرپورٹ کا ماحول یکجہتی اور جوش و خروش سے بھر گیا۔
سابق سینیٹر نے عالمی سماجی کارکنوں کے ایک گروہ کے ساتھ اسرائیلی محاصرے کو توڑنے اور غزہ کے عوام تک امداد پہنچانے کی کوشش میں حصہ لیا تھا۔ تاہم، روانگی کے دوران فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا اور متعدد شرکا کو گرفتار کرلیا، جن میں مشاق احمد بھی شامل تھے۔
رہائی کے بعد اپنے سرکاری فیس بک پیج پر جاری کردہ ویڈیو پیغام میں مشاق احمد نے اپنی اور دیگر کارکنوں کی قید کے دوران کی اذیت ناک تفصیلات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 150 افراد کو اسرائیل کی مشہور جیل "کیتزیوت” میں قید کیا گیا، جہاں انہیں غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا، “ہماری ہاتھوں کو پیچھے سے باندھا گیا، پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں۔ ہمیں کتے چھوڑ کر ڈرایا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور کھانا، پانی، اور دوائیں دینے سے بھی انکار کیا گیا۔”
سابق رکنِ سینیٹ کے مطابق، حراست میں لیے گئے افراد نے تین روزہ بھوک ہڑتال کی تاکہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔ پانچ دن کی قید کے بعد بالآخر انہیں رہا کر کے اردن منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ پاکستان واپس پہنچے۔
مشاق احمد کی رہائی پر ملک بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان اور جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی بہادری اور فلسطینی عوام سے وفاداری کو زبردست انداز میں سراہا جا رہا ہے۔
ان کے تجربات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ غزہ کے عوام کے لیے انسانیت کی بنیاد پر آواز اٹھانا اب بھی خطرات سے خالی نہیں۔ لیکن ایسے کارکنان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانیت کی جدوجہد سرحدوں سے بالاتر ہے۔