اسلام آباد: تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر پر مبنی ریکو ڈک منصوبہ ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی کوششوں سے سرمایہ کاری اور فنانسنگ کی بڑی رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے معدنیاتی منصوبوں میں سے ایک کو نئی رفتار ملی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے 71 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دے دی ہے، جو پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ایکویٹی یا شیئر ہولڈر قرض کی شکل میں فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ بھی منصوبے کو مشترکہ کارپوریٹ گارنٹی کے تحت سپورٹ کریں گے تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنایا جاسکے۔
طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ریکو ڈک مائننگ کمپنی نے 35 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک نئی ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایل-3 پروجیکٹ کے تحت آئندہ تین برسوں میں ریکو ڈک کو کراچی کی پورٹ قاسم سے ریلوے ٹریک کے ذریعے جوڑا جائے گا تاکہ معدنیات کی ترسیل کو آسان بنایا جاسکے۔
ریکو ڈک کو ماہرین “گیم چینجر” قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہاں دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کو 90 ارب ڈالر تک کی آمدن ہوسکتی ہے جبکہ بلوچستان میں ہزاروں روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
پاکستان، جو طویل عرصے سے رکے ہوئے منصوبوں اور سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے، کے لیے یہ پیش رفت ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔ مالیاتی رکاوٹوں کے خاتمے اور نئی گارنٹیوں کے بعد، ریکو ڈک منصوبہ اب پاکستان کی مستقبل کی معیشت کا سنگِ بنیاد بننے کے قریب ہے۔