۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11:25 پر آیا اور علاقے کی تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
روسی ساحلی شہر سیویرو-کوریلسک میں 4 میٹر (13 فٹ) تک اونچی لہروں نے بندرگاہ کو زیرِ آب کر دیا اور مچھلی پراسیسنگ پلانٹ کو نقصان پہنچایا۔ حکام نے فوری طور پر قصبے کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
جاپان میں، جہاں 2011 کی تباہ کن سونامی کی یادیں اب بھی تازہ ہیں، ایک بار پھر وارننگ جاری کی گئی۔ حکومت نے ابتدائی طور پر 19 لاکھ افراد کو انخلا کا حکم دیا، تاہم بعد میں کئی علاقوں میں خطرے کی سطح کم کر دی گئی کیونکہ لہریں معمول پر آنے لگیں۔ لیکن کولمبیا اور نیوزی لینڈ جیسے دور دراز ممالک میں بھی انخلا کے احکامات برقرار ہیں۔
دوسری جانب ہوائی میں ایک برطانوی کروز مسافر نے بی بی سی کو بتایا کہ "جیسے ہی سائرن بجنے لگے، ہر کوئی دوڑ کر واپس جہاز کی طرف جا رہا تھا”، جو بحرالکاہل کے ممالک میں پھیلی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں خطرہ کم ہو چکا ہے، لیکن یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زیرِ سمندر زلزلہ کس قدر تیزی سے پورے بحرالکاہل خطے کو متاثر کر سکتا ہے