جج فرینک کیپریو، اپنی رحم دلی اور شفقت کے باعث دنیا بھر میں مقبول، 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

پراویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ — مشہور جج فرینک کیپریو، جن کی عدالت میں نرمی، مزاح اور انسانیت پسندی نے انہیں رہوڈ آئی لینڈ سے کہیں بڑھ کر دنیا بھر میں ایک مقبول شخصیت بنا دیا تھا، 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے ڈیوڈ کیپریو نے بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک جذباتی بیان میں والد کی وفات کی تصدیق کی۔

سابق پراویڈنس میونسپل کورٹ کے جج طویل علالت کے بعد چل بسے۔ انہیں 2023 کے آخر میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، جسے انہوں نے عوامی طور پر بھی شیئر کیا تھا۔ ڈیوڈ کیپریو کے مطابق دنیا بھر سے ملنے والی محبت اور حوصلہ افزائی نے ان کے والد کو وہ طاقت دی جس کی بدولت وہ ڈاکٹروں کی توقعات سے ڈیڑھ سال زیادہ زندہ رہے۔

خاندانی بیان میں کہا گیا: “رحم دلی، عاجزی اور انسانیت پر یقین رکھنے والے جج کیپریو نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر کیں۔ ان کی گرمجوشی، مزاح اور مہربانی نے ہر اس شخص پر گہرا نقش چھوڑا جو انہیں جانتا تھا۔”

جج کیپریو نے پہلی بار قومی سطح پر تب شہرت حاصل کی جب ان کی معمولی ٹریفک کیسز سننے کی ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ عدالت میں جرمانے معاف کرنا یا کسی کی ذاتی مشکلات توجہ سے سننا ان کا خاص انداز تھا۔ یہ صرف کیسز نہیں بلکہ ان کا خلوص اور ہمدردی تھی جس نے لاکھوں دلوں کو چھوا۔

پراویڈنس کے فیڈرل ہل میں پیدا ہونے والے کیپریو تین بھائیوں میں دوسرے تھے۔ بچپن میں غربت کا سامنا رہا۔ وہ جوتے پالش کرتے، اخبارات تقسیم کرتے اور دودھ کی گاڑی پر کام کرتے تھے تاکہ گھر کا خرچ پورا کر سکیں۔ 1958 میں پراویڈنس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے بوسٹن کی سفوک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی، اسی دوران ایک ہائی اسکول میں امریکی حکومت بھی پڑھاتے رہے۔

کیپریو نے 1985 سے 2023 تک میونسپل کورٹ کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی عدالت ہی وہ جگہ تھی جہاں سے مشہور ٹی وی شو “Caught in Providence” شروع ہوا، جو 2018 سے 2020 تک نشر ہوا اور ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ اس شو نے روزمرہ مقدمات میں پوشیدہ انسانیت کو دنیا بھر تک پہنچایا اور انہیں سوشل میڈیا کا اسٹار بنا دیا۔

دسمبر 2023 میں اپنی بیماری کا اعلان کرتے ہوئے کیپریو نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں ان کی جدوجہد دوسروں کے لیے امید کا ذریعہ بنے۔ ایک سال بعد سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بچپن کی مشکلات نے ان کے عدالتی رویے کو کس طرح متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا: “میں صرف ایک چھوٹے شہر کا جج ہوں جو اچھا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے والد ہمیشہ کہتے تھے — جب کوئی تمہارے سامنے آئے تو اس کے جوتوں میں خود کو رکھ کر دیکھو۔ سوچو کہ اگر تم ہوتے تو کیسا سلوک چاہتے؟” جج کیپریو اپنی تقریباً 60 سالہ رفیقِ حیات جائس، پانچ بچوں، سات پوتے پوتیوں اور دو پڑپوتے پڑپوتیوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں

More From Author

چیف جسٹس نے عمران خان کی ضمانت کی سماعت میں تاخیر کی درخواست مسترد کر دی

سیلابی تباہی پر برطانیہ کے بادشاہ چارلس کا پاکستانی عوام سے اظہارِ افسوس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے