تین برسوں میں تقریباً 29 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے، مہنگائی اور بے یقینی بڑی وجوہات قرار

لاہور — گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 29 لاکھ پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی بدامنی اس بڑے پیمانے پر ہجرت کی بنیادی وجوہات ہیں۔

محکمہ پروٹیکٹریٹ آف امیگرینٹس کی رپورٹ کے مطابق سال 2022 سے 15 ستمبر 2025 تک 28 لاکھ 94 ہزار 645 شہری پاکستان سے باہر گئے۔ ان میں خواتین کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔

کئی افراد کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور کاروبار شروع یا قائم رکھنے میں مشکلات نے انہیں بیرونِ ملک جانے پر مجبور کیا۔ جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، بینکرز، اکاؤنٹنٹس، آڈیٹرز، ڈیزائنرز اور آرکیٹیکٹس جیسے پروفیشنلز بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنر مند اور نیم ہنر مند مزدور بھی بڑی تعداد میں باہر گئے ہیں جن میں ڈرائیورز، ویلڈرز اور پلمبرز نمایاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روانگی سے قبل تارکینِ وطن نے حکومت کو پروٹیکٹریٹ فیس کی مد میں تقریباً 26 ارب 62 کروڑ روپے ادا کیے، جو سرکاری خزانے کے لیے خاطر خواہ آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوا۔

ملک چھوڑنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تنخواہیں بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہیں، جس کے باعث گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو گیا۔ ایک شہری نے لاہور ایئرپورٹ سے روانگی سے قبل کہا، “کتنی ہی محنت کیوں نہ کر لیں، تنخواہ بڑھتی قیمتوں کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔ مجبوراً باہر جانا پڑتا ہے۔”

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بیرونِ ملک روزگار سے آنے والی ترسیلات زر خاندانوں کی مدد کرتی ہیں، لیکن ملک کو ایک خطرناک “برین ڈرین” کا سامنا ہے کیونکہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد ریکارڈ تعداد میں وطن چھوڑ رہے ہیں۔

More From Author

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ، جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردعمل کا اعلان

لاڑکانہ میں گیس چوری کا انوکھا انکشاف، پلاسٹک کے غباروں میں گیس ذخیرہ کر کے بجلی پیدا کی جا رہی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے