بھارت سے آنے والا سیلابی پانی پاکستان میں داخل، دیہات اور کھیت زیر آب

قصور – بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں چھوڑا گیا سیلابی ریلا پاکستان میں داخل ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ضلع بہاولنگر میں نچلے درجے کی طغیانی پیدا ہوگئی اور دریا کے کنارے واقع کھیت اور بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر تقریباً 70 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ درجنوں دیہات متاثر ہوئے ہیں اور مقامی آبادی کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوراً دریا کے کنارے والے علاقوں کو خالی کردیں۔ ریسکیو 1122 نے متاثرہ مقامات پر کشتی سروس شروع کردی ہے تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جاسکے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو یومیہ دو وقت کا کھانا اور مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کیا جارہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر قصور کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے ہائی الرٹ پر ہیں اور متاثرہ افراد کے تحفظ اور مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تلور پوسٹ پر ریسکیو، پولیس، آبپاشی اور ریونیو محکموں کے کیمپ قائم کردیے گئے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جاسک

More From Author

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

پاک فوج کی ایک دن کی تنخواہ اور راشن سیلاب متاثرین کے نام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے