بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکیں کھنڈرات، شہری اذیت میں مبتلا

کے ایم سی مرمت کے دعوے کر رہی ہے، پولیس نے گڑھوں کو مٹی سے بھرنا شروع کردیا

کراچی: حالیہ بارشوں نے شہر کی مرکزی شاہراہوں کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث روزانہ کا سفر شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، کھلے گڑھے اور ابلتا ہوا گندا پانی نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ شہریوں کے اخراجات اور صحت کے مسائل میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ سڑکوں کی حالت خراب ہے تاہم دعویٰ کیا کہ میئر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مرمتی کام شروع کردیا گیا ہے۔

شہری منصوبہ ساز محمد توحید کے مطابق کراچی میں تقریباً دو ہزار اہم شاہراہیں ہیں جن میں سے “لگ بھگ نصف تباہ حال ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ناقص سیوریج نظام اس بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال براہِ راست مسائل پیدا کر رہی ہے۔ سماجی کارکن نعیم خان، جو موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں، نے بتایا کہ گاڑیوں کے شاکس اور ٹائروں کی حالت تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ “کار مالکان دھول سے تو بچ جاتے ہیں، لیکن اُن کے مرمتی اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔ مارٹن روڈ کے رہائشی علی سہیل نے بتایا کہ موٹر سائیکل کے ماہانہ اخراجات میں دو ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ صدر کے محمد کامران کا کہنا تھا، “جو سفر پندرہ منٹ میں مکمل ہونا چاہیے، اب گھنٹہ لگ جاتا ہے۔”

معاشی بوجھ کے ساتھ ساتھ شہریوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ نجی اسپتال کے معالج ڈاکٹر فاروق خان کے مطابق چھاتی کے انفیکشن، سانس کی بیماریوں اور ریڑھ کی ہڈی کے درد کے مریض بڑھ گئے ہیں۔ ایمبولینس سروسز کا بھی کہنا ہے کہ احتجاج اور ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

شہری اور سماجی کارکنان بھی برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کراچی بچاؤ کمیٹی کی لیلا رضا کا کہنا تھا، “کسی موٹر سائیکل سوار سے پوچھیں جو صبح صاف کپڑوں میں نکلتا ہے اور شام کو کس حال میں گھر پہنچتا ہے۔” جماعت اسلامی کے یو سی ناظم کلیم الحق عثمانی نے کہا کہ شہر کا انفراسٹرکچر “کھنڈر بن چکا ہے” اور حکمران “نظر انداز کر رہے ہیں۔” خصوصی ضروریات رکھنے والی شہری سعدیہ شاہد نے کہا، “شاہراہ فیصل پر روزانہ کا سفر ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ میئر کو براہِ راست مداخلت کرنا ہوگی۔”

دوسری جانب مکینک فراز احمد کا کہنا تھا کہ خراب سڑکوں کی وجہ سے موٹر سائیکلوں اور کاروں کی فٹنس بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

کے ایم سی کے مطابق اس کے ماتحت 106 سڑکوں پر مرمتی کام جاری ہے لیکن دیگر اداروں کے زیرِ انتظام سڑکوں کی ذمہ داری اُن پر نہیں آتی۔ اس دوران ٹریفک پولیس نے عارضی طور پر گڑھوں کو مٹی اور ملبے سے بھر کر گاڑیاں چلانے کی سہولت پیدا کی ہے — ایک وقتی حل جو مستقل توجہ اور منصوبہ بندی کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔

More From Author

پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے چین کی امداد روانہ

نقوی کا بھارت کو انتباہ: ایشیا کپ کی جیت کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے