تیانجن میں منعقدہ اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور کثیر قطبی عالمی نظام کی ضرورت پر زور
اسلام آباد – شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف دوہرا معیار ترک کرے۔
یہ مشترکہ اعلامیہ چین کے شہر تیانجن میں رکن ممالک کے سربراہان کی کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چینی صدر شی جن پنگ نے کی جبکہ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان اور قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان، تاجکستان اور بیلا روس کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر کے حملے قابل مذمت
ایس سی او رہنماؤں نے 11 مارچ کو بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے، 21 مئی کو خضدار میں اسکول بس دھماکے اور 22 اپریل کو پاہلگام میں سیاحوں پر حملے کی مذمت کی۔ رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور زور دیا کہ دہشتگردی کے مرتکب، سرپرست اور سہولت کار ہر حال میں انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشتگردی کی ہر شکل ناقابلِ قبول ہے اور کسی بھی شدت پسند یا علیحدگی پسند گروہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ رہنماؤں نے مل جل کر دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے اور انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف اقدامات بڑھانے کا عزم کیا۔
کثیر قطبی دنیا کی ضرورت
اجلاس میں بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور معاشی مسائل کو سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عالمی نظام کو منصفانہ، شفاف اور کثیر قطبی بنیادوں پر تشکیل دیا جائے گا جس میں ریاستوں کی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا جائے۔
ایس سی او نے طاقت کے بلاک بنا کر ٹکراؤ کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے وسیع تر یوریشین تعاون کی حمایت کی اور "گریٹر یوریشین پارٹنرشپ” کے تصور کی توثیق کی جس میں سارک، آسیان اور دیگر علاقائی فورمز کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔
غزہ اور ایران پر حملوں پر تشویش
اعلامیے میں غزہ کی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی غیر مشروط فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی جون میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہری سلامتی بالخصوص جوہری تنصیبات کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر ملک کو پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی یکطرفہ پابندی کو مسترد کیا۔
افغانستان، منشیات اور خطے کی سلامتی
اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی جہاں ایک جامع اور ہمہ گیر حکومت قائم کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ملک دوبارہ دہشتگردوں اور منشیات کی اسمگلنگ کا گڑھ نہ بن سکے۔ رہنماؤں نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں سکیورٹی کے معاملات پر "ایس سی او پلس ڈائیلاگ” کے قیام کا اعلان کیا اور اسلحے و منشیات کی اسمگلنگ اور انتہا پسندانہ پراپیگنڈے کے خلاف تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ترقی، تجارت اور کھیلوں میں تعاون
اجلاس میں رکن ممالک نے 2035 تک ایس سی او ڈویلپمنٹ اسٹریٹجی پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام پر مزید مشاورت پر اتفاق کیا۔
رہنماؤں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کی بھی حمایت کی، جس میں بھارت شامل نہیں ہے، اور تجارتی سہولتوں میں اضافہ کرنے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی تعاون بڑھانے کی تجویز دی گئی تاکہ عالمی مقابلے تعصب سے پاک اور امن و دوستی کے جذبے کے ساتھ منعقد کیے جائیں۔
کرغیزستان نئی صدارت سنبھالے گا
اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ ایس سی او کی صدارت اب کرغیزستان کے پاس ہوگی جبکہ اگلا سربراہی اجلاس 2026 میں اس عنوان کے تحت منعقد ہوگا:
"ایس سی او کے 25 سال: پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب مل کر سفر”