ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کا اسرائیل پر فتح کا دعویٰ: "دشمن تقریباً تباہ ہو چکا”

تہران – ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعرات کو اسرائیل کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد اسے ایک= "اہم فتح” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے جوابی حملوں سے "صیہونی ریاست تقریباً زمین بوس ہو چکی ہے۔”

اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر نشر کیے گئے ایک پیغام میں خامنہ ای نے کہا:
"تمام شور شرابے اور دعووں کے باوجود، صیہونی حکومت اسلامی جمہوریہ کے کاری واروں سے ہل کر رہ گئی ہے اور تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔”

انہوں نے ایرانی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا: "یہ جھوٹی اور ناجائز صیہونی حکومت پر ایک تاریخی فتح ہے۔”

اگرچہ جنگ بندی کی باضابطہ شرائط سامنے نہیں آئیں، تاہم خامنہ ای کے اس بیان کو تہران کے اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے — خاص طور پر اس نایاب موقع پر جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست اور شدید نوعیت کی فوجی جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں ممالک کے جوہری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بیان ایران کے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ وہ نہ صرف بیرونی دباؤ اور حملوں کے سامنے ڈٹا رہا، بلکہ اس نے اس تمام بحران سے مضبوط ہو کر نکلنے کا تاثر بھی دیا ہے — باوجود اس کے کہ خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں فریق کچھ عرصے کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی قوتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

More From Author

ایرانی پارلیمنٹ کا اقوامِ متحدہ کے ایٹمی ادارے سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ

کراچی میں بارش سے بجلی کی فراہمی متاثر، 340 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے