تہران — جولائی 2025
ایرانی صدر مسعود پیشمرگہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو۔
معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پیشمرگہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تہران کو واشنگٹن پر شدید تحفظات ہیں، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں۔
"ہم کیسے یقین کریں کہ امریکہ ایک بار پھر اسرائیل کو ایران پر حملے کی اجازت نہیں دے گا؟ یہ صرف سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ اعتماد کا شدید بحران ہے،” صدر پیشمرگہ نے سوال اٹھایا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اُن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی تھی، تاہم انہوں نے اس واقعے کی تاریخ یا مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ "یہ امریکہ نہیں تھا، اسرائیل تھا۔ میں ایک اجلاس میں موجود تھا اور انہوں نے اس مقام پر بمباری کی کوشش کی جہاں ہم موجود تھے،” انہوں نے کہا۔
دوسری جانب، ایران کی مسلح افواج کو ممکنہ اسرائیلی حملے کے پیش نظر مکمل ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ملک بھر میں فوجی تیاریوں کو مکمل کر لیا گیا ہے اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو جواب پچھلی بار سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق، ہزاروں میزائل اور ڈرون خفیہ مقامات پر تیار حالت میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ چھڑی تو اس بار پاسدارانِ قدس، بحریہ اور فوج تینوں مشترکہ طور پر کارروائی کریں گے۔
ان حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے حالیہ ملاقات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے اس ملاقات کو "پیشگی منصوبہ بند سیاسی ڈرامہ” قرار دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے ایک مشیر نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔ "خطہ اس وقت ایک دھار دار چھری کے کنارے کھڑا ہے،” انہوں نے کہا، "لیکن یہ بات واضح ہے — ہم پوری طرح تیار ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، لیکن اصل چیلنج پالیسی نہیں بلکہ ایک دوسرے پر سے اٹھا ہوا اعتماد دوبارہ قائم کرنا ہوگا — جو برسوں پر محیط تصادم، سازشوں اور عدم اعتماد سے بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔