واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ "امن قائم کرنے میں ماہر” ہیں اور وہ ایک بار پھر خطے میں امن بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ کشیدگی ہفتہ کی رات سے شروع ہوئی اور اتوار کی صبح تک جاری رہی، جس میں پاکستان کے 23 فوجی جوان شہید جبکہ 200 طالبان اور ان کے اتحادی جنگجو ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ جھڑپیں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید گہرا کر گئیں۔
ٹرمپ نے یہ بیان ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا، جب وہ واشنگٹن سے اسرائیل جا رہے تھے، جہاں وہ غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی نگرانی کرنے والے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا،
“مجھے پتہ چلا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ جاری ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں واپس آ کر اس کو بھی حل کر لوں گا۔ میں جنگوں کو ختم کرنے میں ماہر ہوں، امن قائم کرنا میرا فن ہے، اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں لاکھوں جانیں بچا رہا ہوں۔”
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عالمی سطح پر ان کے دعوے ایک بار پھر زیر بحث ہیں۔ دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی وہ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے “آٹھ جنگیں ختم کیں” ایک ایسا دعویٰ جسے ماہرینِ خارجہ مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں، مگر یہ ٹرمپ کی مخصوص خود اعتمادی کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔
ٹرمپ نے نوبیل امن انعام 2025 کے حوالے سے بھی گفتگو کی، جو حال ہی میں وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی سفارتی کامیابیاں اس سال خصوصی توجہ کی حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا:
“دیانتداری کی بات ہے تو نوبیل کمیٹی نے یہ انعام 2024 کے لیے دیا، مگر لوگ کہہ رہے ہیں کہ 2025 میں جو کچھ میں نے کیا، اس کے لیے استثنا دیا جانا چاہیے۔ لیکن میں نے یہ سب نوبیل کے لیے نہیں کیا، میں نے یہ انسانیت بچانے کے لیے کیا ہے۔”
انہوں نے اپنی گفتگو میں جنوبی ایشیا کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کو بھی یاد کیا۔
“سوچیں، بھارت اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے جنگیں چل رہی تھیں — 31، 32، حتیٰ کہ 37 سال تک۔ میں نے یہ سب ایک دن میں ختم کروا دیے۔ برا نہیں، ہے نا؟”
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سفارت کاری سے زیادہ اقتصادی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
“میں نے بھارت اور پاکستان سے کہا کہ اگر تم لوگ جنگ چاہتے ہو اور تمہارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، تو میں تم دونوں پر 100، 150 بلکہ 200 فیصد تک ٹیکس لگا دوں گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ 24 گھنٹے میں حل ہوگیا۔ اگر میرے پاس ٹیکس کا ہتھیار نہ ہوتا تو یہ جنگ کبھی ختم نہ ہوتی۔”
ٹرمپ نے ماضی میں بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والے تصادم کا کریڈٹ لیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی بدترین جھڑپوں میں سے ایک تھی۔ یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ کشمیر میں ہندو یاتریوں پر حملہ ہوا ایک ایسا حملہ جس کا الزام بھارت نے بغیر شواہد پاکستان پر لگا دیا۔ اسلام آباد نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کہانی “جھوٹ اور مبالغے” سے بھری ہوئی ہے۔
چار دن تک جاری رہنے والے اس تصادم میں دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون اور توپ خانے کا استعمال کیا۔ بعد ازاں جنگ بندی طے پا گئی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے بھارت کے چھ جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں رافیل بھی شامل تھے، جبکہ بھارت نے “کچھ نقصانات” تسلیم کیے مگر چھ طیارے گرائے جانے کی تردید کی۔
اب جب کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، ٹرمپ ایک بار پھر عالمی سیاست کے منظرنامے پر بطور ثالث ابھرنے کے خواہاں ہیں۔
تاہم یہ اب بھی غیر واضح ہے کہ اسلام آباد اور کابل ان کی پیشکش کا خیرمقدم کریں گے یا نہیں۔