نیویارک — صرف 27 برس کی عمر میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر، ڈاکٹر مریم شوکت کی زندگی کا چراغ اس وقت گل ہو گیا جب وہ جگر کی پیوندکاری کے لیے آپریشن تھیٹر لے جائی جا رہی تھیں۔ بدقسمتی سے وہ اس بڑی سرجری سے صرف تیس منٹ پہلے دم توڑ گئیں۔
ڈاکٹر مریم کئی روز سے جگر کے پیچیدہ مرض میں مبتلا تھیں اور نیویارک، نیو جرسی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ان کی حالت تیزی سے بگڑتی گئی اور معالجین نے واضح کر دیا کہ فوری جگر کی پیوندکاری ہی ان کی زندگی بچانے کا واحد راستہ ہے۔
ان کے شوہر ڈاکٹر حمزہ ظفر نے معاملہ ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ (APPNA) کے سپرد کیا۔ تنظیم نے فوری طور پر ہنگامی فنڈ ریزنگ مہم شروع کی، اور حیرت انگیز طور پر صرف ایک دن میں دو لاکھ تہتر ہزار ڈالر جمع ہو گئے۔
اسی رقم میں سے ایک لاکھ ڈالر ہسپتال کو فوری طور پر ادا کر دیے گئے جس کے بعد ڈاکٹر مریم کو ٹرانسپلانٹ لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ جلد ہی ایک ڈونر بھی دستیاب ہوا اور یہ امید جاگی کہ ان کی زندگی کو نئی سانسیں مل جائیں گی۔
ایپنا کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد ثناء اللہ اور صدر ڈاکٹر حمیرا قمر کے مطابق، دیگر ماہرین بشمول ڈاکٹر اے فضل اکبر، ڈاکٹر ذیشان، ڈاکٹر بابر راؤ، ڈاکٹر فتح شہزاد اور ڈاکٹر صدیق خرم نے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک مریضہ کو بچانے کی کوشش نہیں بلکہ انسانیت اور ہمدردی کا مشن تھا۔
مگر قسمت نے مہلت نہ دی۔ جیسے ہی انہیں آپریشن کے لیے تھیٹر میں منتقل کیا جا رہا تھا، ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ پیوندکاری سے محض تیس منٹ پہلے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ایپنا کے رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مریم کی کہانی قربانی، حوصلے اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی عکاس ہے۔ "وہ دوسروں کو شفا دینے آئیں تھیں، مگر آخری لمحات میں خود کو شفا کی ضرورت پڑ گئی، اور ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود ہم انہیں بچا نہ سکے۔”
ڈاکٹر مریم کی اچانک موت نے پاکستانی برادری کو امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں غمگین کر دیا ہے۔ ایک نوجوان اور باصلاحیت معالجہ کی زندگی اس وقت ختم ہو گئی جب وہ نئی زندگی کے دہانے پر تھیں۔