تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار امریکی پاسپورٹ دنیا کے 10 طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست سے باہر ہوگیا ہے، جو امریکی شہریوں کے لیے عالمی سفر کی آزادی میں نمایاں کمی کی علامت ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس، جو ویزا فری سفری سہولتوں کی بنیاد پر پاسپورٹس کی طاقت کو جانچنے والا معروف عالمی درجہ بندی نظام ہے، کے مطابق امریکہ اب 12ویں نمبر پر آ گیا ہے، جہاں وہ ملائیشیا کے ساتھ شریک ہے۔ دونوں ملکوں کے شہری 227 میں سے 180 ممالک میں بغیر ویزا کے داخل ہو سکتے ہیں۔
سال 2025 کی فہرست میں تین ایشیائی ممالک سرفہرست ہیں — سنگاپور 193 مقامات تک ویزا فری رسائی کے ساتھ پہلے نمبر پر، جنوبی کوریا 190 کے ساتھ دوسرے اور جاپان 189 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
یہ تنزلی امریکہ کے لیے تاریخی ہے، جو 2014 میں فہرست میں نمبر ون پوزیشن پر تھا۔ یہاں تک کہ 2025 کے وسط تک وہ بمشکل ٹاپ 10 میں موجود تھا۔ تاہم، ویزہ پالیسیوں میں باہمی ردعمل کی کمی اور عالمی سفری قوانین میں تبدیلیوں نے اس کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔
زوال کی وجوہات
اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ اپریل میں سامنے آئی، جب برازیل نے امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے شہریوں کے لیے ویزا فری داخلے کی سہولت ختم کر دی، کیونکہ ان ممالک نے برازیل کے لیے اسی سہولت کا جواب نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب، چین نے کئی یورپی ممالک جیسے جرمنی اور فرانس کو ویزا فری داخلے کی اجازت دی، لیکن امریکہ کو اس فہرست سے باہر رکھا۔ پاپوا نیو گنی اور میانمار کی جانب سے ویزا پالیسیوں میں تبدیلیوں نے بھی امریکی پاسپورٹ کے اسکور کو متاثر کیا۔
ہینلے اینڈ پارٹنرز کے چیئرمین کرسچن ایچ کیلن کے مطابق، امریکی پاسپورٹ کی کمزور ہوتی پوزیشن محض درجہ بندی کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی رجحان کی عکاسی ہے۔
"گزشتہ ایک دہائی میں امریکی پاسپورٹ کی گرتی ہوئی طاقت صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عالمی نقل و حرکت اور نرم طاقت (Soft Power) کے توازن میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ جو ممالک کھلے پن اور تعاون کی پالیسی اپناتے ہیں وہ آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ جو پرانے اثر و رسوخ پر انحصار کرتے ہیں، وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔”
عالمی سفری منظرنامہ کی تبدیلی
جہاں امریکہ اور برطانیہ دونوں کی درجہ بندی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے — برطانیہ چھٹے سے آٹھویں نمبر پر چلا گیا — وہیں چین اور متحدہ عرب امارات (UAE) جیسے ممالک تیزی سے اوپر جا رہے ہیں۔
چین نے گزشتہ دس برسوں میں 94ویں سے 64ویں پوزیشن تک ترقی کی ہے، اور اس دوران 37 نئے ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل کی ہے۔ اس پیش رفت کے پیچھے روس، خلیجی ممالک، جنوبی امریکا اور یورپی ریاستوں کے ساتھ کیے گئے نئے سفری معاہدے شامل ہیں۔ اسی طرح، امارات نے بھی ایک دہائی میں 34 درجے اوپر آ کر آٹھویں نمبر پر جگہ بنائی ہے۔
دوسری جانب، افغانستان بدستور فہرست میں سب سے نچلے یعنی 106ویں مقام پر ہے، جس کے شہری صرف 24 ممالک میں ویزا کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں۔ شام (26) اور عراق (29) اس کے بعد کے درجوں پر ہیں۔ دنیا کے سب سے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کے درمیان 169 ممالک کا فرق پایا جاتا ہے۔
‘اب بھی ایک مضبوط پاسپورٹ’
اگرچہ امریکی پاسپورٹ اپنی طاقت کھو رہا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ اب بھی دنیا کے نسبتاً مضبوط پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ سی این این بزنس کے ایڈیٹر ایٹ لارج رچرڈ کویسٹ کے مطابق، اس زوال کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین اور برطانیہ میں ای ایس ٹی اے (ESTA) جیسے نئے سفری تقاضے اور سابق امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسیاں ہیں۔
کویسٹ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ متبادل شہریت حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے پروگرامز جیسے "گولڈ کارڈ” اسکیم پر غور کرتے ہیں، مگر عام امریکی شہریوں کے لیے اس تبدیلی کا کوئی خاص عملی اثر نہیں۔
“آپ کے پاس جو پاسپورٹ ہے، وہی آپ کی حقیقت ہے۔ اسے قبول کریں اور اسی کے ساتھ جئیں۔”
متبادل درجہ بندیاں
اگرچہ ہینلے انڈیکس کو سب سے معتبر مانا جاتا ہے، لیکن دیگر ادارے بھی اپنی درجہ بندی جاری کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آرٹن کیپیٹل کی گلوبل پاسپورٹ پاور رینک 2025 میں متحدہ عرب امارات پہلے نمبر پر ہے، جبکہ سنگاپور اور اسپین اس کے بعد آتے ہیں۔
دونوں درجہ بندیوں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ عالمی سفری طاقت کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور برطانیہ جیسے روایتی مغربی ممالک اپنی برتری آہستہ آہستہ کھو رہے ہیں۔
دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس (2025)
- سنگاپور – 193 ممالک
- جنوبی کوریا – 190
- جاپان – 189
- جرمنی، اٹلی، لکسمبرگ، اسپین، سوئٹزرلینڈ – 188
- آسٹریا، بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈز – 187
- یونان، ہنگری، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، سویڈن – 186
- آسٹریلیا، چیک ریپبلک، مالٹا، پولینڈ – 185
- کروشیا، ایسٹونیا، سلوواکیہ، سلووینیا، متحدہ عرب امارات، برطانیہ – 184
- کینیڈا – 183
- لٹویا، لیختن شتائن – 182
- آئس لینڈ، لتھوانیا – 181
- امریکہ، ملائیشیا – 180