ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کی حالیہ سرحدی کارروائیوں کے دوران چینی ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنی دفاعی استعداد بڑھانے کے لیے بڑی حد تک چین کی فراہم کردہ جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی میں بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان نے کئی جدید چینی نظام استعمال کیے، جن میں جدید میزائل ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ یہ ساز و سامان محض تربیتی مشقوں اور معمول کے ڈرلز کا حصہ نہیں تھے بلکہ حقیقی آپریشنل صورتحال میں بھی بروئے کار لائے گئے، جس سے ان کی کارکردگی بخوبی ثابت ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سالوں میں پاکستان اور چین کے دفاعی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، اور آج چین اسلام آباد کی فوجی ضروریات کے لیے اہم ہارڈویئر فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس کا مقصد پرانے ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرنا، تیاری کو بہتر بنانا اور خطے میں مستحکم سیکیورٹی ماحول قائم رکھنا ہے۔
پاکستان اور چین کے حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں نے بھی اعلیٰ سطح کی ہم آہنگی اور عملی تعاون دکھایا، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں طویل مدتی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کے فوجی نظام کو جدید بنانے اور چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم رکھنے کے ارادے کو واضح کرتے ہیں۔