اسلام آباد — وفاقی حکومت نے ایک مذہبی تنظیم کے اعلان کردہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل انٹرنیٹ (3G اور 4G) سروسز معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ یہ پابندی آج رات سے نافذ کرے، جو سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔
اطلاعات کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد اس فیصلے کی منظوری دی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال عوامی امن میں خلل ڈال سکتا ہے۔
پی ٹی اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے چیف کمشنرز اور آئی جیز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے تاکہ اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
دوسری جانب، دونوں شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ٹریفک کے متبادل راستے بھی تجویز کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکا جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ٹریفک کی صورتحال سے باخبر رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔