گیس ٹیرف میں بھی نمایاں اضافہ، مہنگائی سے پسے عوام پر مزید بوجھ
ملک میں یکم جولائی سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافے کا امکان ہے، کیونکہ حکام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔ اوگرا کی جانب سے قیمتوں کے تعین کی سمری آج وزارت پیٹرولیم کو بھیجی جائے گی، اور وزارت خزانہ کی جانب سے حتمی اعلان آج رات متوقع ہے۔
یاد رہے کہ 16 جون کو بھی پٹرول 4.80 روپے اور ڈیزل 7.95 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا، جس پر عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔
عالمی دباؤ، مقامی اثرات
حکام کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجوہات بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہیں۔
“درآمدی لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور حکومت کے پاس قیمتیں نہ بڑھانے کا زیادہ اختیار نہیں بچا،” پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔
حسب روایت، قیمتوں کا حتمی فیصلہ وزیر خزانہ اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
گیس ٹیرف میں بھی زبردست اضافہ
دوسری جانب اوگرا نے گھریلو اور دیگر صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں بھی یکم جولائی سے قابلِ ذکر اضافہ کر دیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخ 200 روپے سے 4200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک ہوں گے، جو کہ بعض کیٹیگریز میں 50 فیصد تک اضافہ ہے۔
اوگرا نے گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ فکسڈ چارجز بھی متعارف کرا دیے ہیں، جو کم استعمال کرنے والے افراد کے لیے اضافی بوجھ بن سکتے ہیں۔
عوامی مشکلات میں اضافہ
پہلے ہی بجلی مہنگی، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں ایندھن اور گیس کی قیمتوں میں بیک وقت اضافے نے عوام کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر فاروق سلیم نے کہا،
“یہ مہنگائی سے ستائے عوام پر ایک اور کاری ضرب ہے۔ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیاء کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ گیس کے نرخ بڑھنے سے مجموعی مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔” جولائی کا مہینہ شروع ہوتے ہی حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ کسی قسم کا ریلیف دے — تاہم موجودہ مالی حالات کے پیشِ نظر فوری ریلیف دینا بظاہر مشکل نظر آ رہا ہے