یوکرین جنگ پر ٹرمپ کی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی، روس نے نظرانداز کر دیا

ماسکو (15 جولائی 2025) – ایک سینئر روسی عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حالیہ دھمکی کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کی جنگ ختم نہ کرے تو روسی برآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات پیر کو وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر انہوں نے یوکرین کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کیا اور روسی مصنوعات خریدنے والے ممالک پر بھی بھاری ٹیرف لگانے کی وارننگ دی۔

صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
“میں انہیں قاتل کہنا نہیں چاہتا، لیکن وہ ایک سخت مزاج انسان ہیں۔”

ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ٹرمپ نے کریملن کو ایک دھمکی آمیز الٹی میٹم دیا ہے۔ میدویدیف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ
“دنیا اس کے متوقع نتائج سے لرز گئی، یورپ مایوس ہوا، لیکن روس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

تاحال ماسکو کی جانب سے امریکی صدر کی اس دھمکی کا باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اگر روس نے یوکرین کے ساتھ جنگ بندی نہ کی تو صدر ٹرمپ روسی برآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ان ممالک پر بھی ثانوی پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو روس سے تیل خریدتے ہیں۔

امریکی کانگریس میں بھی 100 میں سے 85 سینیٹرز ایک بل کی حمایت کر رہے ہیں جس کے ذریعے صدر کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ روس کی مدد کرنے والے کسی بھی ملک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔ تاہم ریپبلکن رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس پر ووٹنگ سے پہلے ٹرمپ کے اقدام کا انتظار کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چین اور بھارت روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں

More From Author

برطانیہ نے پاکستانی طلبہ اور ورکرز کے لیے ای ویزا سہولت متعارف کرا دی

ٹرمپ کا دعویٰ: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چند دنوں میں روک دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے