روم / میڈرڈ / پیرس – یورپ میں موسم گرما کا آغاز ایک ہولناک ہیٹ ویو کے ساتھ ہوا ہے، جس نے اب تک کم از کم آٹھ افراد کی جان لے لی ہے اور کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ہنگامی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں جب کہ صحت اور بنیادی ڈھانچے پر گرمی کے اثرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
اٹلی، فرانس اور اسپین ان ممالک میں شامل ہیں جہاں درجہ حرارت خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے، اور حکام نے "ریڈ الرٹ” جاری کر دیا ہے۔ اٹلی نے بدھ کے روز 18 شہروں کو شدید گرمی کے زمرے میں شامل کر لیا، جہاں بزرگوں اور بیمار افراد کو خاص طور پر خطرہ لاحق ہے۔ جرمنی میں محکمہ موسمیات نے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس (104 ڈگری فارنہائٹ) تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، جو اس سال کا گرم ترین دن ہو سکتا ہے۔
اسپین میں حکام کے مطابق گرمی کے باعث چار ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ کاتالونیا میں جنگلاتی آگ نے دو افراد کی جان لے لی، جب کہ ایک ایک ہلاکت ایکسٹریمادورا اور کورڈوبا میں ہوئی۔ فرانس کی وزیر صحت، کیتھرین واؤترین نے دو مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی، جب کہ 300 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔ اٹلی میں بھی دو بزرگ افراد سارڈینیا کے ساحل پر بے ہوشی کے باعث دم توڑ گئے۔
موسمیاتی ادارے مسلسل انتباہ جاری کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ وزیر صحت واؤترین نے خبردار کیا: "اگلے چند دنوں میں ہم ان اثرات کو دیکھیں گے، خاص طور پر بزرگ اور کمزور طبقے کے افراد پر۔”
ترکی میں جنگلاتی آگ کے باعث 50,000 افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی، تاہم حکام کے مطابق بیشتر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسپین کے علاقے کاتالونیا میں ایک روز قبل بھڑکنے والی آگ نے تقریباً 40 کلومیٹر تک کا علاقہ راکھ کر دیا۔
شدید گرمی نے انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں توانائی فراہم کرنے والی کمپنی Axpo نے دریا کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اپنے ایک نیوکلیئر ری ایکٹر کو بند کر دیا اور دوسرے کی پیداوار آدھی کر دی۔ فرانس اور اٹلی نے بھی خطرناک طوفانوں کی پیش گوئی کی ہے، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں۔
پیرس اور میلان کے درمیان ریل سروس اس وقت معطل ہو گئی جب فرانسیسی الپس میں شدید طوفان اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے۔ پیرس میں ایفل ٹاور کی بالائی منزل زائرین کے لیے بند کر دی گئی، جب کہ برسلز میں واقع مشہور "آٹومیئم” (Atomium) کو بھی احتیاطاً جلد بند کر دیا گیا — یہ اس ہفتے تیسری بار ہوا۔
ماہرین اس گرمی کی لہر کو "ہیٹ ڈوم” (Heat Dome) قرار دے رہے ہیں — یعنی ایک ایسا دباؤ جو گرم ہوا کو اوپر جانے سے روکتا ہے اور اسے سطح زمین پر قید کر لیتا ہے، جبکہ سمندر کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس نظام کو مزید طاقتور بناتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انگر اینڈرسن کا کہنا ہے:
"اب غیر معمولی گرمی کوئی انہونی بات نہیں رہی۔ یہ ہمارا نیا موسمی معمول بن چکا ہے — جو نہ صرف جانوں بلکہ معیشتوں کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔”
معاشی اثرات بھی اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ برطانیہ میں مشہور بیکری چین "گریگس” (Greggs) نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کی وجہ سے گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور سالانہ منافع گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہنے کا امکان ہے۔ Allianz Research کی رپورٹ کے مطابق، 32 ڈگری سے زائد درجہ حرارت کا ہر دن یورپ کی معیشت سے آدھے دن کی ہڑتال کے برابر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
جرمنی میں لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے سوئمنگ پولز اور جھیلوں کا رخ کر رہے ہیں، جب کہ کئی اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ مشرقی ریاستوں برانڈنبرگ اور سیکسنی میں فائر بریگیڈ کو جنگلاتی آگ بجھانے کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔ جون 2024 اسپین کے لیے تاریخ کا گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے، جب کہ فرانس 2003 کے بعد اپنی گرم ترین جون کا سامنا کر رہا ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ آیا یورپ کی بنیادی ڈھانچے اور اس کے نازک طبقات اس نئے "موسمی معمول” کا سامنا کر سکیں گے یا نہیں