برسلز | 19 جولائی 2025
روس پر دباؤ کم کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتے ہوئے، یورپی یونین نے ماسکو کے خلاف پابندیوں کے 18ویں پیکیج کا اعلان کر دیا ہے — اور اس بار نشانہ روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور آمدنی کے اہم ذرائع کو بنایا گیا ہے۔
تازہ اقدامات میں روسی خام تیل کی قیمت پر سخت حد، شیڈو فلیٹ (وہ بحری جہاز جو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) پر کریک ڈاؤن، اور نارد اسٹریم گیس پائپ لائن پر مزید پابندیاں شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، پابندیوں کا دائرہ اب بھارت میں روس کی توانائی کمپنی روزنیفٹ تک پھیل چکا ہے — جو یورپی یونین کی معاشی جنگ کو عالمی سطح تک لے جاتا ہے۔
نشانہ آمدنی، نہ کہ بیانیہ
یورپی حکام کے مطابق، اس نئی پابندیوں کا مرکزی نقطہ روسی تیل کی فروخت پر حد بندی ہے — جسے 60 ڈالر فی بیرل سے گھٹا کر 45 ڈالر کر دیا گیا ہے۔ مقصد واضح ہے: ماسکو کو جنگی اخراجات کے لیے مالی معاونت سے محروم کرنا۔
ایک یورپی سفارتکار کا کہنا تھا،
"پیغام بالکل واضح ہے: جب تک جارحیت جاری رہے گی، قیمت بھی بڑھتی رہے گی۔”
اگرچہ 2023 میں نافذ کی گئی 60 ڈالر کی حد مؤثر ثابت نہیں ہوئی — کیونکہ اس پر عملدرآمد کمزور تھا اور عالمی منڈی میں قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں — لیکن یورپی یونین کو یقین ہے کہ اس بار سخت نگرانی اور بندرگاہوں پر چیک اینڈ بیلنس سے نتائج بہتر آئیں گے۔
شیڈو فلیٹ کے خلاف بڑی کارروائی
پابندیوں کے اس مرحلے کا سب سے نمایاں پہلو روسی شیڈو فلیٹ کے خلاف کارروائی ہے — وہ جہاز جو قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر تیل کی منتقلی جاری رکھتے ہیں۔ یہ جہاز اکثر غیر واضح پرچم کے تحت چلتے ہیں، جہازوں کی نقل و حرکت بتانے والے نظام (AIS) کو بند رکھتے ہیں، اور غیر معروف بندرگاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یورپی یونین کے مطابق، اب کوئی بھی یورپی بیمہ کمپنی، بندرگاہ یا لاجسٹک ادارہ ایسے کسی جہاز کو سروس فراہم نہیں کرے گا جو روسی پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث ہو — چاہے وہ براہِ راست روسی ملکیت ہو یا پسِ پردہ روس کے لیے کام کر رہا ہو۔
یورپی کمیشن کے ترجمان نے کہا:
"ہم وہ راستے بند کر رہے ہیں جن سے بچنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اب یہ فلیٹ پوشیدہ نہیں رہا۔”
نارد اسٹریم گیس پائپ لائن ایک بار پھر نشانے پر
کئی برسوں سے سیاسی تناؤ کا مرکز بنی نارد اسٹریم گیس پائپ لائن ایک بار پھر یورپی پابندیوں کی زد میں آ گئی ہے۔ اگرچہ یہ پائپ لائن 2022 کے آخر سے غیر فعال ہے — تخریب کاری اور سیاسی تنازعات کے باعث — تاہم، نئی پابندیاں اس سے جُڑے اداروں اور کمپنیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدامات صرف علامتی نہیں بلکہ عملی طور پر روس کے لیے مستقبل میں نارد اسٹریم کو بحال کرنا مشکل بنا دیں گے۔
بھارت بھی نظر میں
اس مرتبہ ایک اور غیر معمولی قدم میں یورپی یونین نے بھارت میں روسی کمپنی روزنیفٹ کی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں۔ اگرچہ بھارت یورپی یونین کا رکن نہیں ہے اور اب تک روس کے ساتھ توانائی کے معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹا، لیکن یورپی حکام سمجھتے ہیں کہ روس کی بین الاقوامی شراکت داریوں کو مہنگا کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ ایک واضح پیغام ہے: روس جہاں بھی جائے، یورپ اس کی مالی راہیں محدود کرنے کی کوشش کرے گا۔
ماسکو کا ردعمل: سخت مگر متوقع
روسی حکومت نے حسبِ توقع ان پابندیوں کو "غیر قانونی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا:
"یہ پابندیاں ہمارے لیے نئی نہیں ہیں۔ ہم نے مغربی دباؤ کے خلاف ایک خودکار مدافعتی نظام بنا لیا ہے۔ یورپ خود اپنی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”
روسی حکام عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ ان کی معیشت مغربی پابندیوں سے "محفوظ” ہے، اور چین، بھارت و دیگر غیر مغربی ممالک سے تجارت ان کے لیے کافی ہے۔
بڑا منظرنامہ: ایک جنگ جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی
فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اب تک، یورپی یونین — امریکہ، برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ — روس پر متعدد پابندیاں لگا چکی ہے۔ بینکاری، ٹیکنالوجی، ہوا بازی، اور لگژری اشیاء سے لے کر توانائی تک، تقریباً ہر شعبہ اس کی زد میں آ چکا ہے۔
مگر جنگ اب بھی جاری ہے — اور اس کے ساتھ ہی مغرب کی کوشش بھی کہ روس کے مالی ذرائع ختم کیے جائیں۔
یورپی پالیسی ماہر کے الفاظ میں:
"یہ وقتی فائدے کی بات نہیں — یہ طویل مدتی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے۔”
اور جیسے جیسے سردی کا موسم قریب آ رہا ہے اور یورپ کی توانائی کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، یہ اقتصادی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔